تعلیم کا مقصد روزگار نہیں قوم اور انسانیت کی خدمت ہے: شاہد لطیف
نوجوان نسل کردار، علم اور خدمت کے جذبے سے ملک سنوار سکتی ہے
علم کو معاشرتی بہتری کےلئے استعمال کرنا وقت کی ضرورت ہے
صدر منہاجینزم فورم کا کالج آف شریعہ میں سکالر شپ لینے والے طلبہ سے خطاب
لاہور (یکم مئی 2026) صدر منہاجینز فورم و ڈائریکٹر ریسورسز اینڈ ڈویلپمنٹ منہاج القرآن انٹرنیشنل شاہد لطیف نے کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز کے سکالر شپ حاصل کرنے والے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم کا مقصد محض روزگار کا حصول نہیں بلکہ قوم اور انسانیت کی خدمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ علم ایک امانت ہے جسے معاشرے کی بہتری، اخلاقی تربیت اور اجتماعی فلاح کےلئے استعمال کرنا چاہئے۔ خصوصی لیکچر کا انعقاد کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز میں کیا گیا جس میں سکالرشپ پروگرام کے تحت زیرتعلیم طلبہ کی بڑی تعداد اور اساتذہ نے شرکت کی۔
شاہد لطیف نے طلبہ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سکالر شپ حاصل کرنا صرف ایک اعزاز نہیں بلکہ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے، جس کا تقاضا ہے کہ طلبہ اپنی صلاحیتوں ک قوم کی ترقی کےلئے بروئے کار لائیں۔ انہوں نے کہاکہ موجود دور میں طلبہ کو صرف ڈگری کے حصول تک محدود نہیں رہنا چاہئے بلکہ اپنے کردار، اخلاق اور ویژن کو بھی مضبوط بنانا ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کامیاب انسان وہ ہے جو اپنے علم کو دوسروں کےلئے فائدہ مند بنائے۔ تعلیم انسان کو شعور برداشت اور خدمت کا جذبہ دیتی ہے۔ نوجوان نسل ہی پاکستان کے روشن مستقبل کی ضامن ہے۔
شاہد لطیف نے کہا کہ تحریک منہاج القرآن کے تعلیمی اداروں میں جاری سکالر شپ پروگرامز با صلاحیت اور مستحق طلبہ کےلئے بہترین موقع ہیں جس کے ذریعےوہ اپنی تعلیمی صلاحیتوں کو بہتر بنا کر ملک و قوم کی خدمت کر سکتے ہیں۔ لیکچر کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا جس میں طلبہ نے کیرئیر کونسلنگ، دینی و عصرف تعلیم کے امتزاج اور معاشرتی ذمہ داریوں کے حوالے سے سوالات کئے۔ شاہد لطیف نے مدلل اور رہنمائی پر مبنی جوابات دیتے ہوئے طلبہ کوعملی زندگی میں مثبت کردار ادا کرنے کی تلقین کی۔


















تبصرہ