سندھ بھر میں تنظیمی و تربیتی ورکشاپس، مراکزِ علم کے فروغ اور تقسیمِ اسناد کی تقاریب کا انعقاد
مرکزی نائب ناظم اعلیٰ تحریک منہاج القرآن سندھ مظہر محمود علوی کی خصوصی شرکت و خطابات

کراچی: تحریکِ منہاج القرآن سندھ کے زیرِاہتمام ماہ اپریل اور مئی 2026 کے دوران سندھ کے مختلف 7 مقامات جیکب آباد، لال بھٹی، کشمور، اگڑہ، مورو، حیدرآباد اور ماتلی سمیت دیگر علاقوں (ورڈ موری، لاکھاٹ، میرپور بھٹھورو، ڈگری اور کھپرو) میں تنظیمی تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا گیا، جن میں تحریک منہاج القرآن کی 20 تنظیمات کے ذمہ داران اور عہدیداران نے بھرپور شرکت کی۔
اس موقع پر مرکزی نائب ناظم اعلیٰ تحریک منہاج القرآن سندھ مظہر محمود علوی نے مرکزی ورکشاپس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دعوتِ دین کی ضرورت و اہمیت، اس کے مؤثر اسلوب، نتیجہ خیزی، مراکزِ علم کے قیام اور عصرِ حاضر میں ان کی افادیت پر تفصیلی گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ نے امتِ مسلمہ کی فکری، اخلاقی اور سماجی اصلاح کے لیے قرآن و سنت کی روشنی میں جو ہمہ گیر تحریک برپا کی ہے، وہ آج تجدید و احیائے دین کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل کی فکری و عملی تربیت میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ورکشاپس کا بنیادی مقصد اسی فکری نظام کو سمجھنا، اپنانا اور عملی زندگی میں نافذ کرنا ہے، جبکہ صالح اور معتدل معاشرے کے قیام کے لیے مراکزِ علم کا فروغ ناگزیر ہے۔
ورکشاپس میں مختلف تعلیمی و تربیتی نشستوں میں ندیم احمد نقشبندی، حفیظ اللہ بلوچ، سید علی محمد شاہ قادری، منیر احمد مگسی، ڈاکٹر نذیر احمد سومرو، نیاز احمد بروہی، فیض محمد، بیدار بخت، عبدالقدوس قادری، ثناء اللہ رومی، سلیمان اکبر چاچڑ، سید محمد علی شاہ بخاری، منور میمن، سعید میمن، مصطفیٰ علی کریم، ڈاکٹر شیراز، نایاب انصاری، وقار یونس، حفیظ خاصخیلی، فیاض احمد خاصخیلی، حافظ محمد علی ورڈ، حافظ کاشف کمبوہ، حافظ جمن قادری، علامہ مٹھل سندھی، حافظ فضل الرحمان، ریاض احمد نقشبندی، طارق خان جی، علی حسن قادری، طارق مصطفوی، فرحان منہاج، سید زاہد علی شاہ اور علامہ احمد منہاجین خصوصی شریک تھے۔
ورکشاپس کے اختتام پر شرکاء کو منہاج القرآن انٹرنیشنل کی تاحیات رکنیت کی اسناد پیش کی گئیں جبکہ ذمہ داران کو چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کی کتاب “رفیق اور رفاقت” بھی بطور تحفہ پیش کی گئی۔




































تبصرہ