اللہ تعالیٰ نے نماز کو صرف عبادت نہیں بلکہ انسان کے دل و دماغ کے سکون اور روحانی راحت کا عظیم ذریعہ بنایا ہے: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری
صبر اور نماز وہ دو عظیم نعمتیں ہیں جن کے ذریعے اللہ ربّ العزت بندے کے مضطرب دل کو سکون، اُس کی بے چینی کو اطمینان اور اُس کی سخت آزمائشوں کو رحمت و آسانی میں بدل دیتا ہے: صدر منہاج القرآن
انسانی زندگی آزمائشوں، فکروں اور ذہنی دباؤ سے بھری ہوئی ہے، اور ہر شخص دل کے سکون اور روح کے اطمینان کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے۔ قرآنِ مجید انسان کو یہ عظیم حقیقت سمجھاتا ہے کہ حقیقی سکون دنیا کے وسائل میں نہیں بلکہ اللہ ربّ العزت سے مضبوط تعلق میں پوشیدہ ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے نماز کو محض ایک عبادت نہیں بلکہ دل و دماغ کی راحت، روحانی طاقت اور باطنی سکون کا بہترین ذریعہ قرار دیا، جبکہ صبر کو وہ قوت بنایا جو انسان کو مشکلات کے طوفانوں میں بھی ثابت قدم رکھتی ہے۔ جب بندہ صبر اور نماز کے ذریعے اپنے ربّ سے جڑ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کے دل کی بے چینی کو سکون، اُس کی پریشانیوں کو آسانی اور اُس کی آزمائشوں کو رحمت میں تبدیل فرما دیتا ہے۔
نماز: پریشانیوں سے نجات کا روحانی راستہ:
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: جب انسان کا دل بوجھل ہو جائے، ذہن پریشانیوں سے بھر جائے اور دنیا کی مشکلات اُس پر غالب آنے لگیں تو اُسے چاہیے کہ کچھ لمحوں کے لیے اللہ ربّ العزت کے حضور حاضر ہو جائے۔ نماز دراصل بندے اور ربّ کے درمیان ایسا روحانی رابطہ ہے جو انسان کے دل کو سکون، ذہن کو راحت اور روح کو تازگی عطا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو دعوت دیتا ہے کہ دنیا کے ہنگاموں، فکروں اور غموں سے نکل کر اُس کی بارگاہ میں آئیں، چند لمحے یکسوئی کے ساتھ اُس کا ذکر کریں، قرآنِ مجید کی تلاوت کریں، اپنے دل کو ہر غیر سے خالی کر کے صرف اُسی کی طرف متوجہ کر دیں۔ یہی حقیقی مراقبہ ہے۔
نماز محض چند ظاہری اعمال کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل روحانی میڈیٹیشن ہے۔ جب بندہ سچے انہماک کے ساتھ نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو گویا وہ دارالامان میں داخل ہو جاتا ہے؛ ایسی پناہ گاہ میں جہاں خوف نہیں، بے چینی نہیں، بلکہ صرف رحمت، سکون اور نور ہے۔ اگر نماز کے دوران بھی انسان دنیاوی معاملات، کاروبار، لین دین اور پریشانیوں میں اُلجھا رہے تو وہ نماز اُس کے لیے روحانی راحت کا ذریعہ نہیں بن پاتی۔ لیکن جب انسان ہر خیال کو پسِ پشت ڈال کر خالصتًا اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے تو اُس کے دل کے بوجھ ہلکے ہونے لگتے ہیں اور روح کو قرار نصیب ہوتا ہے۔
اللہ ربّ العزت خوب جانتا ہے کہ انسان کمزور ہے، آزمائشوں اور ذہنی دباؤ کا شکار رہتا ہے، اسی لیے اُس نے نماز کو بندے کے لیے سکون، اطمینان اور ذہنی راحت کا عظیم ذریعہ بنا دیا۔ جو شخص اخلاص اور یکسوئی کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو جاتا ہے، اُس کے غم کم ہونے لگتے ہیں، دل روشن ہو جاتا ہے اور زندگی میں ایک نئی روحانی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ محبت ہمیشہ نماز، ذکرِ الٰہی اور تعلقِ مصطفیٰ ﷺ میں دل کا سکون تلاش کرتے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے مزید کہا کہ: نماز دراصل دارُ الاَمان ہے۔ جب انسان اس میں داخل ہو جائے تو دنیا کے ہر خیال، ہر پریشانی اور ہر اُلجھن کو اپنے پیچھے چھوڑ دے۔ دل میں کوئی شے باقی نہ رہے، صرف اپنے ربّ اور اپنے محبوب ﷺ کا خیال باقی رہ جائے۔ پھر جب بندہ تشہد میں بیٹھ کر تاجدارِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر درود و سلام بھیجتا ہے، تو حضور نبی اکرم ﷺ کے مبارک چہرۂ انور، روضۂ اقدس اور محبتِ مصطفیٰ ﷺ کی نورانی کیفیت دل کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ اُس لمحے انسان کے غم، پریشانیاں اور ذہنی بوجھ خود بخود ہلکے ہونے لگتے ہیں۔
نماز، صبر اور توکل؛ سکونِ قلب کا قرآنی راستہ:
ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ اگر انسان دن میں پانچ مرتبہ پابندی اور باقاعدگی کے ساتھ نماز کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنا لے، یہاں تک کہ دنیا کے دوسرے کام چھوٹ جائیں مگر نماز نہ چھوٹے، تو یہی نماز اُس کے لیے سکون، تحفظ اور روحانی راحت کا سب سے بڑا ذریعہ بن جاتی ہے۔ حقیقت میں نماز ایک ایسی الٰہی نعمت ہے جو انسان کے دل و دماغ کو ہر اضطراب اور سٹریس سے نجات عطا کرتی ہے۔ پھر اللہ ربّ العزت ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾ [البقرة، 2/153]
’’اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے (مجھ سے) مدد چاہا کرو، یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ (ہوتا) ہے‘‘
اللہ ربّ العزت فرماتا ہے کہ اپنی تکلیفوں، پریشانیوں اور آزمائشوں میں نماز کے ذریعے مجھ سے مدد مانگو۔ مگر افسوس! ہمارا رویہ اس کے برعکس ہو چکا ہے۔ جب انسان ذہنی دباؤ، بے چینی اور مشکلات کا شکار ہوتا ہے تو وہ نماز اور ذکر سے بھی دور ہونے لگتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ دل کسی کام میں نہیں لگتا، نماز پڑھنے کو دل نہیں چاہتا، ذکر و اذکار کی بھی ہمت نہیں ہوتی۔ حالانکہ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب بندے کو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔
جب انسان نماز کی حالت میں اپنے ربّ کے حضور کھڑا ہو کر عاجزی کے ساتھ دعا کرتا ہے، اپنے دل کا بوجھ اُس کے سامنے رکھتا ہے اور کہتا ہے: ’’اے میرے مالک! تو ہی ہنساتا ہے اور تو ہی رلاتا ہے، میرے غموں کو خوشیوں میں بدل دے، میری پریشانیوں کو آسانی عطا فرما‘‘، تو یہی تعلق اُس کے دل کو سکون اور روح کو طاقت عطا کرتا ہے۔ لوگ دنیا میں مختلف دروازوں پر دھکے کھاتے پھرتے ہیں، مگر ایک سچا سجدہ انسان کو ہزاروں ٹھوکروں سے بچا لیتا ہے۔ اگر انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنی نسبت، محبت اور تعلق کو مضبوط کر لے تو وہی بارگاہ اُس کے تمام غموں، پریشانیوں اور ذہنی دباؤ کے لیے کافی ہو جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے صبر، نماز اور توکل کو انسان کے لیے سکون اور نجات کا ذریعہ بنایا ہے۔ قرآنِ مجید سکھاتا ہے کہ مصیبت کے وقت بندہ یہ کہے: اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔ یعنی ہم اللہ ہی کے ہیں اور اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ یہ احساس انسان کے دل کو مضبوط کرتا ہے اور اُسے بے چینی سے نکال کر رضا اور اطمینان کی کیفیت عطا کرتا ہے۔ توکل علی اللہ دراصل ایمان کی وہ کیفیت ہے جس میں انسان ہر معاملے کے پیچھے اپنے ربّ کی حکمت اور مشیت کو کارفرما دیکھنے لگتا ہے۔ اہلُ اللہ اور عام لوگوں میں بنیادی فرق یہی ہوتا ہے کہ اہلِ دل دنیا کے ظاہری اسباب سے آگے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی قدرت اور تصرّف کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ وہ ہر خیر میں اپنے ربّ کی رحمت اور ہر آزمائش میں اُس کی حکمت کو دیکھتے ہیں۔ اُنہیں یقین ہوتا ہے کہ میرا مالک ہی عطا کرنے والا، سنبھالنے والا اور مشکلات کو آسان کرنے والا ہے۔
اسی مضبوط توکل کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ تکلیفیں آنے کے باوجود اُن کے دل غم اور خوف سے مغلوب نہیں ہوتے۔ وہ دنیا کے مسائل کا سامنا ضرور کرتے ہیں، مگر اُن کے چہروں پر سکون، اطمینان اور فرحت باقی رہتی ہے۔ اُن کے دل اللہ ربّ العزت کی یاد میں ایسے مضبوط ہو جاتے ہیں کہ دنیا کی پریشانیاں اُن کے باطن کو متاثر نہیں کر پاتیں۔ یہی تعلقِ الٰہی انسان کو حقیقی سکون، بے نیازی اور قلبی اطمینان عطا کرتا ہے۔
اللہ ربّ العزت انسان کو یہ راستہ دکھاتا ہے کہ زندگی میں غم، آزمائشیں اور تکلیفیں ضرور آئیں گی، لیکن اپنے دل کو اللہ کی بارگاہ کے ساتھ مضبوط کر لو، اپنے اندر توکل اور صبر کو پختہ کر لو۔ اپنے ربّ کے ساتھ ایسا تعلق قائم کر لو کہ جب بھی کوئی پریشانی یا دکھ پہنچے تو فورًا اُس کے حضور حاضر ہو جاؤ۔ نماز، دعا اور ذکر کے ذریعے اپنے دل کو اُس سے جوڑ لو، کیونکہ حقیقی سکون اور مدد اُسی کے دَر سے ملتی ہے۔
سیدنا امام حسین علیہ السلام کی مبارک سیرت میں بھی یہی درس نمایاں نظر آتا ہے۔ آپ علیہ السلام کی عظیم خصوصیات میں سے ایک یہ تھی کہ اگر کوئی معمولی سی تکلیف یا پریشانی کی خبر بھی پہنچتی تو آپ فورًا مصلّے کی طرف متوجہ ہو جاتے اور نماز میں مشغول ہو جاتے۔ آپ علیہ السلام نے قرآنِ مجید کے حکمِ ’’صبر اور نماز سے مدد چاہو‘‘ کو اپنی پوری زندگی کا عملی لباس بنا لیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا کا پورا سفر صبر، رضا اور اللہ سے مضبوط تعلق کا مظہر نظر آتا ہے، یہاں تک کہ شہادت کے عظیم لمحے میں بھی آپ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز تھے۔
یہی اصل پیغام ہے کہ انسان صبر کو اپنا سہارا اور نماز کو اپنی پناہ بنا لے۔ اللہ تعالیٰ سے مانگے، اُس سے جڑ جائے اور ہر حال میں صبر اختیار کرے۔ جو شخص اِن دو راستوں کو مضبوطی سے اختیار کر لیتا ہے، اللہ ربّ العزت اُس کے غموں کو سکون، اُس کی پریشانیوں کو آسانی اور اُس کی بے چینی کو اطمینان میں بدل دیتا ہے۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ