حج عقل کو خاموش اور عشق کو بیدار کر دینے والی عبادت ہے: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

مورخہ: 20 مئی 2026ء

حج انسان کو یہ شعور عطا کرتا ہے کہ جو رنگ، جو لباس، جو اندازِ زندگی، جو طرزِ عمل اللہ تعالیٰ کو اپنے محبوب بندوں کی نسبت سے پسند آ جائے، اُسی کو اختیار کر لینا عبادت ہے: شیخ الاسلام کا خطاب

حج محض چند ظاہری اعمال، رسموں یا عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ بندۂ مومن کے عشق، اطاعت اور کامل سپردگی کا عظیم مظہر ہے۔ یہ وہ عبادت ہے جو انسان کی عقل کو حیرت میں ڈال کر اُس کے دل میں محبتِ الٰہی اور روحِ بندگی کو بیدار کر دیتی ہے۔ حج انسان کو یہ شعور عطا کرتا ہے کہ عبادت صرف اُن اعمال کا نام نہیں جو بظاہر عظیم دکھائی دیں، بلکہ عبادت دراصل اُس طرزِ زندگی کو اپنانے کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کو اپنے محبوب بندوں کی نسبت سے پسند آ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ حاجی احرام کی سادگی، طواف کی عاجزی، سعی کی جستجو اور عرفات کی حاضری کے ذریعے اپنی خواہشات، اپنی اَنا اور اپنی عقل کو خدا کی رضا کے سامنے جھکا دیتا ہے۔ حج دراصل انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ بندگی کی معراج وہاں شروع ہوتی ہے جہاں محبت، عقل کے تمام سوالوں پر غالب آ جائے۔

حج: بندگی کا ہمہ گیر شعور:

مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: حج کیا ہے؟ انسانی عقل جب حج کے تصور پر غور کرتی ہے تو وہ ابتداء میں یہی سمجھتی ہے کہ شاید حج چند مخصوص عبادات، نوافل، اَذکار یا تسبیحات کا مجموعہ ہوگا، یا کسی خاص ضابطۂ عمل اور رسمی عبادت کا نام ہوگا۔ لیکن جب دنیا کے کونے کونے سے لوگ سفر کر کے سَر زمینِ حجاز میں پہنچتے ہیں تو اُن پر ایک عظیم حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ حج محض چند نفلی عبادات، مخصوص اَذکار یا رسمی اعمال کا نام نہیں۔

حج کسی ایسی ظاہری رسم کا نام بھی نہیں جسے دیکھتے ہی انسانی ذہن روایتی عبادت تصور کرنے لگے، بلکہ حج دراصل بندۂ مومن کی مکمل سپردگی، اطاعت، عاجزی اور ربِ کائنات کے حضور اپنی خواہشات کو قربان کر دینے کا عملی اعلان ہے۔ یہ وہ عبادت ہے جو انسان کو ظاہر سے باطن، رسم سے روح، اور عمل سے اخلاص کی حقیقت تک لے جاتی ہے۔

مناسکِ حج کی حقیقت:

شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: حج کی حقیقت انسان پر اُس وقت منکشف ہوتی ہے جب وہ مناسکِ حج کو محض ظاہری اعمال کی بجائے عشق، اطاعت اور بندگی کی نظر سے دیکھتا ہے۔ بظاہر عقل حیران رہ جاتی ہے کہ کبھی انسان 9 ذی الحج کو میدانِ عرفات کی طرف رواں ہے، کبھی اپنے سلے ہوئے کپڑے اُتار کر دو سادہ چادروں میں ملبوس ہو جاتا ہے، کبھی ننگے سَر اللہ تعالیٰ کے گھر میں حاضر ہوتا ہے، کبھی اپنے بال اور ناخن کاٹنے سے خود کو روک لیتا ہے، کبھی قربانی پیش کرتا ہے، کبھی کنکریوں سے پتھر کے ستونوں کو مارتا ہے، کبھی صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتا ہے، اور کبھی نمازوں کو اُن کے مقررہ اوقات کے بجائے جمع کر کے ادا کرتا ہے۔

عقل اِن تمام اعمال کو دیکھ کر سوال اٹھاتی ہے کہ کیا کسی ستون کو کنکری مارنے کا نام عبادت ہے؟ کیا اللہ تعالیٰ کے گھر کے گرد سات چکر لگانا عبادت کہلاتا ہے؟ کیا دو پہاڑیوں کے درمیان چلنا، ننگے سر حاضر ہونا، یا مخصوص انداز سے طواف کرنا عبادت ہے؟ عقل مادی پیمانوں اور ظاہری توجیہات کے ذریعے حج کے ارکان کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہے، مگر وہ اِن مناسک کی اصل روح تک پہنچنے سے قاصر رہتی ہے۔

لیکن جب یہی سوال عشق کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے تو حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ عبادت دراصل اُس عمل کا نام ہے جو اللہ تعالیٰ کو محبوب ہو جائے۔ پھر چاہے وہ عمل اپنی ذات میں کوئی ظاہری فضیلت رکھتا ہو یا نہ رکھتا ہو، جب وہ خدا کی رضا سے جڑ جائے تو وہی بندگی بن جاتا ہے۔

حج انسان کو یہ شعور عطا کرتا ہے کہ جو رنگ، جو لباس، جو اندازِ زندگی، جو طرزِ عمل اللہ تعالیٰ کو اپنے محبوب بندوں کی نسبت سے پسند آ جائے، اُسی کو اختیار کر لینا عبادت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حاجی اپنے رب کے محبوبوں کی یاد میں اُن کے انداز اپناتا ہے، اُن کے نقشِ قدم پر چلتا ہے، اور اپنی خواہشات، اپنی عقل اور اپنی اَنا کو خدا کی رضا کے سامنے جھکا دیتا ہے۔ یہی حج کی روح ہے، یہی عشقِ بندگی کا کمال ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top