سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے قرآن خوانی و تعزیتی ریفرنس
حصولِ انصاف کی خاطر آئینی و قانونی اور جمہوری انداز میں پُرامن جدوجہد کرتے رہیں گے: ناظمِ اعلیٰ منہاج القرآن انٹرنیشنل خرّم نواز گنڈاپور

لاہور: 12 ویں برسی کے سلسلے میں شہدائے سانحہ ماڈل ٹاؤن کو ایصالِ ثواب و خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے مرکزی سیکریٹریٹ پر قرآن خوانی اور تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ ناظمِ اعلیٰ منہاج القرآن انٹرنیشنل خرّم نواز گنڈاپور نے تعزیتی ریفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 17 جون 2014ء پاکستان کی تاریخ کا ایک سیاہ ترین دن ہے جب قانون، انصاف اور انسانی حقوق کو پامال کیا گیا۔ اس وقت لاہور ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود منہاج القرآن سیکرٹریٹ کے اطراف لگائے گئے سکیورٹی بیریئرز ہٹانے کی کارروائی کی گئی اور بعد ازاں نہتے کارکنان پر طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سانحہ کے بعد انصاف کے حصول کے لئے تمام آئینی اور قانونی راستے اختیار کیے گئے، تاہم مختلف مراحل میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ آج سانحہ ماڈل ٹاؤن کی 12ویں برسی پر بھی مظلوم ورثاء کی آنکھیں انصاف کی راہ تک رہی ہیں۔ آخری سانس تک حصولِ انصاف کی خاطر آئینی و قانونی اور جمہوری انداز میں پُرامن جدوجہد کرتے رہیں گے۔
انہوں نے شہداء کے اہلِ خانہ، قانونی ٹیم اور ان تمام کارکنان کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے گزشتہ بارہ برس کے دوران استقامت اور وفاداری کی مثال قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ انصاف کے بغیر معاشرے ترقی نہیں کرتے اور پاکستان میں پائیدار استحکام کے لئے قانون کی بالادستی اور عدل کا قیام ناگزیر ہے۔
تعزیتی ریفرنس کا آغاز قاری اکرام ربانی کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، فیضان صفدر اور شکیل احمد طاہر نے بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں نذرانۂ عقیدت پیش کیا جبکہ فیض المصطفیٰ نے نظامت کے فرائض سرنجام دیئے۔ اختتام پر علامہ رانا محمد ادریس قادری نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے ایصالِ ثواب، درجات کی بلندی، اہلِ خانہ کیلئے صبر و استقامت اور ملک میں عدل و انصاف کے قیام کے لئے خصوصی دعا کرائی۔
قرآن خوانی و تعزیتی ریفرنس میں الحاج عبدالغفور قادری، راجہ زاہد محمود قادری، ڈاکٹر محمد رفیق نجم، ڈاکٹر میر محمّد آصف اکبر قادری، میاں زاہد اسلام، نوراللہ صدیقی، علامہ رانا محمد ادریس قادری، کرنل (ر) خالد جاوید، محمد غفار، شیخ فرحان عزیز، رانا وحید شہزاد، سردار عمر دراز خان، علامہ اشفاق علی چشتی، قاری ریاست علی چدھڑ، سید محمود الحسن جعفری، پروفیسر ڈاکٹر محمد ممتاز الحسن باروی، شکیل احمد طاہر اور مختلف سماجی و تحریکی شخصیات سمیت کارکنان نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔






























تبصرہ