نظامتِ تربیت

تین روزہ کورس "آئیں دین سیکھیں" ||| منہاج العمل برائے ڈانلوڈ

تحریک منہاج القرآن دورحاضر کی ایک ایسی دینی وانقلابی اور اجتہادی وتجدیدی تحریک ہے جس کے دعوتی وتبلیغی، اخلاقی و روحانی، فکری واجتہادی اور تحریکی وتنظیمی پروگرام نے نہ صرف اہل ایمان کے نظریات، اصلاح احوال امت اور غلبہ دین حق کی بحالی کےلئے اہم کردار ادا کیا ہے۔ بلکہ علمی وفکری حلقوں میں ایک انقلاب بپا کر دیا ہے۔ معاشرے میں دینی ومذہبی خلفشاروں کو کم کر نے میں یہ تحریک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ عرصہ دراز سے شب بیداریوں اور روحانی محافل کے انعقاد کے ذریعے تزکیہ نفس اور تصفیہ باطن کا سامان پیدا کیا جا رہا ہے۔

نظامتِ تربیت تحریک منہاج القرآن مختلف سطحوں پر تربیت کے امور سرانجام دے رہی ہے۔ اس ضمن میں دی منہاج یونیورسٹی کے طلباء و طالبات، کارکنان تحریک، اساتذہ منہاج ایجوکیشن سسٹم، دیگر کالجز و یونیورسٹیز کے طلباء اور مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے اشخاص نظامتِ تربیت سے وقتاً فوقتاً مستفید ہوتے رہتے ہیں۔

نظامت تربیت کی سرگرمیاں

تحریک منہاج القرآن کے جملہ مخلصین، معاونین، نقباء، ناظمین، صدور، امراء اور مرکزی ذمہ داران کی اخلاقی وروحانی، تحریکی وتنظیمی، تجدیدی و انقلابی، دعوتی وتبلیغی، فکری ونظریاتی تربیت کے مواقع فراہم کرنے میں مصروف عمل ہے۔

نظامت تربیت کا دائرہ کار

  1. مرکزی نظامتوں کے جملہ عہدیداران اور ان کے تحت کام کرنے والے ذمہ داران کی تربیت
  2. کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سٹڈیز
  3. دی منہاج یونیورسٹی
  4. تحفیظ القرآن کالج وماڈل سیکنڈری سکول
  5. جملہ تنظیمات تحریک منہاج القرآن
  6. ٹریننگ اکیڈمی ”تربیتی لائحہ عمل“
  7. MES کے سکولز
  8. منہاج القرآن یوتھ لیگ + مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ

نظامت تربیت کے اہداف

  1. تحریک منہاج القرآن کے اہداف کے حصول کےلئے کارکنوں، داعیین، معاونین، نقباء اور ناظمین کےلئے تربیتی کورسز کا انتظام کرنا۔
  2. فیلڈ میں دعوتی مراکز کے قیام اور ان کی کامیابی کےلئے شریعہ کالج کے فاضلین کو فیلڈ ورک کی تربیت فراہم کرنا۔
  3. مرکزی نظامتوں، تعلیمی ادارہ جات اور تحصیلی سطح کی جملہ تنظیمات کے ہر فرد اور داعی کو اعتقادی، روحانی، اخلاقی، دعوتی، تبلیغی، تحریکی، تنظیمی اورفکری ونظریاتی تربیت مہیا کرنا۔
  4. فیلڈ او رمرکز کی تربیتی ضروریات کو کماحقہ پورا کرنے کےلئے تربیتی مرکز کو ہمہ وقت تیار اور فعال رکھنا۔
  5. شریعہ کالج TMU، تحفیظ القرآن اور ICIS کےلئے تربیتی کیمپس کا اہتمام کرنا۔

جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن کا تربیتی نظام

جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن کا باقاعدہ آغاز ستمبر 1986ء میں کیا گیا۔ اس کے قیام کے ساتھ ہی اخلاقی و روحانی تربیت کےلئے جامع مسجد منہاج القرآن میں صُفّہ بلاک کے نام سے تعلیمی وتربیتی مرکز کا آغاز کر دیا گیا۔

اسلاف کے طرزِ تعلیم وتربیت کو اپناتے ہوئے آج کے نوجوانوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا جو نظام جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن میں رائج ہے اس میں سے تین بنیادی اور اہم چیزیں درج ذیل ہیں۔

1۔ تہجد:

اللہ تعالی نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیا۔ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَة لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا O (الاسراء/ بني اِسرآئیل ، 17 : 79)

”پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے رب کو منانے کےلئے راتوں کو اٹھ کر جبین نیاز کو اس کی چوکھٹ پر جھکایا کرعنقریب اللہ تجھے مقام محمود پر فائز کرے گا۔“

جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن میں باقاعدگی سے تہجد کی نماز کا اہتمام کروایا جاتا ہے کیونکہ اس کے بغیردل کی دنیا نہیں بدل سکتی۔

2۔ شب بیداری:

جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن میں دوسری اہم چیز جس کا خصوصیت سے اہتمام کیا جاتا ہے اور جس کو تربیت کا بنیادی عنصر قرار دیا جاتا ہے وہ شب بیداری ہے جس میں جو ہرتوحید اور ذات رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلق قلبی وعشقی قائم کرنے اور نسبت کو پختہ کرنے کےلئے محافل ذکر و نعت کا بھرپور اہتمام ہوتا ہے۔

3۔ ایام بیض کے روزے اور اعتکاف:

جوانیوں کو پاکیزہ سے پاکیزہ تر بنانے اور اندرونی آلائشوں کو ختم کرنے کےلئے ہر قمری مہینے کی 13 ,14 ,15 تاریخ کو روزے رکھنے کا اہتمام کیاجاتا ہے۔

آج اگر ہم دنیا میں مقام پیدا کرنا چاہتے ہیں، اپنا کھویا ہوا وقار دوبارہ بحال کرنا چاہتے ہیں اور بڑھتی ہوئی مادیت پرستی کاخاتمہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے لئے ضروری ہو گا کہ ہم اپنے دینی و روحانی نظام تربیت کو مؤثر بنائیں۔

یہی وہ کام تھا جس کا آغاز ہجرت مدینہ کے بعد حضور نبی اکر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد نبوی کی تعمیر کے ساتھ ہی صفہ چبوترے کی تعمیر سے کیا۔ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس صفہ درسگاہ نے تعمیر انسانیت میں ایک ایسا روشن کردار ادا کیا کہ صحابہ کرام کی صورت میں کئی درخشندہ ستارے تیار کئے گئے جن کی روشنی سے تاقیام قیامت انسانیت مستفید ہو رہی ہے اور ہوتی رہے گی۔ حضور تاجدارکائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لگائے گئے اس شجر مبارکہ کی آبیاری مختلف ادوار میں صوفیاء کرام کرتے رہے مگر جب اس قحط الرجال دور میں حسن کی شوخیاں اور عشق کی گرمیاں ماند پڑگئیں تو پھر اس وقت مفکر دین وملت شیخ الاسلام قائدانقلاب پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اصلاح احوال امت کےلئے تجدید واجتہاد کا ایسا انقلابی درس دیا جس سے قوم کے عروق مردہ میں زندگی کی نئی لہر دوڑ گئی۔

وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَة وَيُزَكِّيهِمْ کے تحت تعلیم کتاب وحکمت تومختلف حوالے سے جاری تھی مگر تزکیہ نفس کا خاطرخواہ انتظام کرنے کی ضرورت تھی۔ جسے پورا کرنے کیلئے قائد تحریک نے باقاعدہ تربیتی عمل کا آغاز کیا۔ یہ تربیتی عمل معاشرے کے کسی ایک گروہ یا خاص طبقہ تک محدود نہ تھا اور نہ ہی یہ تربیتی عمل صرف وعظ و نصیحت تک محدود تھا بلکہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمدطاہر القادری کی طرف سے پیش کیا گیا یہ نظام ہمہ جہتی ہے اور لاتعداد خصوصیات کا حامل ہے۔

ہفتہ وار روحانی وتربیتی اجتماع کا آغاز

آج کے نفسا نفسی کے عالم میں ارواح وقلوب کی آبیاری اور لطافت کےلئے ضروری ہے کہ ایسی روحانی وتربیتی مجالس کا اہتمام کیا جائے جس سے من کی دنیا بدل جائے اور معرفت الہی وعشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاکیزہ جام پی کر پورے معاشرے کو انقلاب آشنا کر دیا جائے۔ اسی مقصد کے حصول کےلئے ان ہفتہ وار شب بیداریوں میں اسلام کے روحانی، اخلاقی اور تصوف پر مبنی تعلیم وتربیت کا باقاعدہ آغاز 16 جنوری 1987ء کو مرکزی جامع مسجد منہاج القرآن ماڈل ٹاؤن میں کیا گیا جن میں خطابات، نعت خوانی، مجالس ذکر، نوافل وتسبیحات اور دیگر روحانی واخلاقی مشاغل کا اہتمام باقاعدگی سے شروع ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزار ہا کی تعداد میں لوگ اپنی روحانی پیاس بجھانے کےلئے یادالٰہی اور قرب رسالتماب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جام نوش کرنے لگے۔ ان شب بیداریوں میں آنکھیں پرنم ہو جاتیں دل تڑپنے لگتے اور بے اختیار درد وسوز میں ڈوب کر آہ وبکا کرنے لگتے۔ اس مرکزی ہفتہ وار شب بیداری کے علاوہ وابستگان تحریک کےلئے علاقائی، شہری اور ضلعی سطح پر بھی تربیتی کیمپس کا اہتمام کیا گیا تاکہ دوردراز علاقوں کے لوگ بھی اس عظیم قافلہ عشق ومستی میں شامل ہو کر اپنے ایمان کی تازگی کا سامان پیدا کر سکیں۔

مری میں دو روزہ تربیتی کیمپ

تحریک کے جملہ وابستگان کی دعوتی وتنظیمی اور دینی وانقلابی سرگرمیاں مؤثر بنانے کےلئے 11 جولائی 1987ء کو پہلی مرتبہ ملکہ کوہسار مری میں تنظیمی عہدیداران کا 2 روزہ تربیتی کیمپ ایمبسٹر ہال میں منعقد ہوا۔ تربیتی کیمپ کے شرکاء کے علاوہ ہزارہا کی تعداد میں عامۃ الناس بھی جمع ہو چکے تھے جنہوں نے قائد تحریک کا خطاب سنا اور اس تربیتی کیمپ کے روحانی واخلاقی ثمرات کو سمیٹ کر اپنی زندگیوں کی عادت بنا لیا۔ اس کیمپ میں قائد تحریک اور مرکزی قائدین کے علاوہ پیر صاحب آف دیول شریف اور خواجہ محمد معصوم آف موہری شریف نے بھی خصوصی شرکت کی۔

مرکزی دوروزہ تربیتی کیمپ

22 جون 1989ء کو تحریک کے جملہ ذمہ داران کےلئے ایک تربیتی کیمپ کا انعقاد کیا گیا جس میں درج ذیل موضوعات پر لیکچرز کا اہتمام کر کے وابستگان تحریک کی سرگرمیوں کو فعال اور مؤثر بنانے کی کوشش کی گئی۔

  1. علمی وفکری جمود کا خاتمہ
  2. اسلامی نظام تعلیم کا احیاء
  3. تعلق باللہ اور ربط رسالت کا احیاء
  4. اخلاقی و روحانی قدروں کی بحالی
  5. اتحاد امت کی ناگزیریت
  6. مصطفوی انقلاب ایک ہمہ گیرانقلاب

اس تربیتی کیمپ میں غلبہ دین حق کی بحالی کےلئے کی گئی کاوشوں کو مؤثر بنانے کےلئے لائحہ عمل بھی ترتیب دیا گیا۔

یوتھ لیگ کا تربیتی کنونشن

20 جولائی 1989ء کو یوتھ لیگ کے جوانوں میں مصطفوی انقلاب کی تڑپ اور خدمت دین کے جذبات موجزن کرنے کےلئے دو روزہ تربیتی کنونشن کا انعقاد کیاگیا۔ جو تین نشستوں پر مشتمل تھا ملک کے کونے کونے سے نوجوانوں کی ایک کثیرتعداد نے اس میں شرکت کی۔ مرکزی قائدین کے دعوتی وتربیتی لیکچرز کے علاوہ قائدانقلاب نے خصوصی تربیتی لیکچرز دیئے جس میں نوجوانوں کی کردارسازی اور سحر خیزی کی تلقین کی اور بتایا کہ اس دور میں اللہ تعالی نے مٹی ہوئی اخلاقی قدروں کو زندہ کرنے کےلئے تحریک منہاج القرآن کو منتخب فرمایا ہے۔

تربیتی وتنظیمی کنونشن

1990ء حکومت پنجاب کے ایماء پر جب قائدانقلاب پر قاتلانہ حملہ ہوا اور عدالتی کاروائیوں نے اپنے تمام میڈیا کو قائد تحریک کی کردار کشی پر لگا دیا، ان سب منفی ہتھکنڈوں کا قلع قمع کرنے کےلئے 22 جون 1990ء کو یوتھ لیگ اور PAT کی جملہ تنظیمات ک ایک مشترکہ تربیتی کنونشن منعقد کیا گیا جس میں کارکنوں کو حوصلہ، ہمت، صبر اور استقامت سے خدمت دین کا درس دی گیا اور قائد تحریک نے لوگوں کو بتایا کہ یہ قاتلانہ حملے ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے بلکہ اس سے بڑی بڑی رکاوٹوں کیلئے بھی ہمیں ہروقت مستعد رہنا ہو گا۔

کراچی میں ماہانہ شب بیداری کا اجراء

وابستگان تحریک کی اخلاقی و روحانی اور علمی وعملی تربیت کےلئے رحمانیہ مسجد طارق روڈ پر ماہانہ تربیتی شب بیداری اور روحانی اجتماع کا آغاز 31 دسمبر 1990ء سے کیاگیا جس میں ذکر ونعت اور روحانی وتربیتی خطابات کاسلسلہ شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزار ہا کی تعداد میں لوگ اس شب بیداری میں شرکت کرنے لگے۔ کراچی سٹی اور اندرون سندھ کے کارکنان اور وابستگان اپنی روحانی پیاس بجھانے کےلئے اس شب بیداری سے مستفید ہوتے رہے ہیں۔

روحانی اقدار کا احیاء اور لیلۃ القدر کا سالانہ اجتماع:

تحریک منہاج القرآن کے زیراہتمام رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں حرمین شریفین کے بعد سب سے بڑے عالمی اجتماعی اعتکاف کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جس کی تمام نشستیں خالصتاً تربیتی ومعلوماتی ہوتی ہیں۔ اس اعتکاف میں شریک ہونے سے انسان کے اندر کی دنیا ہی بدل جاتی ہے۔ 10 دنوں کے بعد اندر کا انسان بیدار ہو چکا ہوتا ہے اور وہ پاکیزہ جذبات سے سرشار ہو کر مصطفوی انقلاب کےلئے ایک نئے جوش اور عزم کے ساتھ دیوانہ وار سرگرم عمل نظرآتا ہے۔ اسی اعتکاف کیمپ کے سلسلہ کی ایک اہم کڑی 27 ویں رات لیلۃ القدر کا سالانہ روحانی اجتماع بھی ہے۔ 12 اپریل 1991ء بمقام جامع المنہاج ٹاؤن شپ میں تحریک منہاج القرآن کا پہلا سالانہ روحانی اجتماع منعقد ہوا اور یہ سلسلہ آج تک جاری وساری ہے۔ ہر سال اس عالمی روحانی اجتماع میں شرکت کےلئے دنیا بھر سے خواتین ومرد حضرات ہزار ہا کی تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔ یہ رات نماز تراویح، ذکرواذکار، نوافل، صلواۃ التسبیح، توبہ واستغفار اور آہوں اور سسکیوں سے لبریز ہوتی ہے۔ لوگ اپنے رب کے حضور نادم وشرمسار ہو کر سہم جاتے ہیں اور رو رو کر اپنے رب کے حضور دعائیں مانگتے ہیں جس کے نتیجے میں قلبی اطمینان وسکون کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ واقعتاً آج اللہ تعالی نے اپنے حبیب کے صدقے تمام شرکاء کے گناہ معاف کر دیئے ہیں۔ قائد تحریک اس رات گریہ وزاری، خشوع وخضوع اور دل کی گہرائیوں سے رب کے حضور دعا کرتے ہیں جس میں شرکت کرنا ہر کوئی اپنا اعزاز سمجھتا ہے۔

سہ روزہ تربیتی کیمپ لورا/ مری

مری اور اس کے گردونواح کی سرسبز وشاداب اور پرفضا وادی لورا میں 16 جون 1991ء تا 18 جون 1991ء سہ روزہ تربیتی کیمپ کا انعقاد کیا گیا جس میں قائد تحریک کے ہمراہ سینکڑوں کارکنوں نے شرکت کی۔” لورا“ میں تحریک منہاج القرآن کے سرگرم کارکنان آنے والے معزز مہمانوں کے چشم براہ تھے، اس کے علاوہ راولپنڈی تنظیم کے ذمہ دار احباب بھی انتظامات میں پیش پیش تھے۔ قائد تحریک نے وابستگان تحریک کی بالخصوص درج ذیل حوالے سے تربیت فرمائی۔

  1. مشن سے غیرمتزلزل وفاداری
  2. مشن کی کامیابی کا پختہ یقین
  3. مشکل حالات میں استقامت اور ثابت قدمی

یوتھ ونگ پنجاب کا تربیتی کیمپ

15 تا 17 جولائی 1992ء کو تین روزہ تربیتی اجتماع اسلام آباد کے قریب وادی دامن کوہ سے آگے کھنہ کے مقام پر منعقد ہوا۔ اس کیمپ میں مرکزی قائدین محترم احمد نواز انجم، محترم ابرار حنیف مغل، محترم محمد نواز سندھو، محترم عاقل ملک، محترم بشیر خان لودھی، محترم حسن میرقادری، محترم مسکین فیض الرحمن درانی اور وسیم احمد نے تربیتی خطابات کئے۔ کیمپ کے اختتام پر گروپ ڈسکشن کے ساتھ مستقبل کا لائحہ عمل واضع کیا گیا اور محترم مخدوم تنویر احمد قریشی نے فیصلوں میں شوریٰ کی اہمیت اور عمل تربیت پر خصوصی لیکچر دیا۔ نماز جمعہ کے بعد اس کیمپ کا اختتام ہوا۔

تربیتی مرکز کا باقاعدہ آغاز

مرکزی شب بیداری اور فیلڈ میں تربیتی کیمپس کے علاوہ اس کمی کو شدت سے محسوس کیا جا رہا تھا کہ مستقل تربیتی مرکز کا آغاز کیا جائے لہذا اس خواب کو شرمندہء تعبیر کرنے کےلئے 22 جون 1993ء کو تحریک منہاج القرآن کی نظامت دعوت وتربیت کے زیراہتمام اولین منہاجیئنز کے زیرانتظام جامع المنہاج بغداد ٹاؤن میں مستقل تربیتی مرکز کا آغاز کیا گیا۔ جس میں تحریک منہاج القرآن کے رفقاء و اراکین، وابستگان اور محبین کی تربیت کا باقاعدہ اہتمام کیا جانے لگا جہاں لوگوں کو قرآن مجید کی صحت لفظی سے لے کر دعوت کے اسلوب تصوف کے ذریعے تزکیہ وتصفیہ کا سامان اور روزمرہ کے مسائل سے آگہی کےلئے ایک جامع تربیتی نصاب متعین کیا گیا تاکہ یہاں سے تربیت پانے والے لوگ عملی زندگی میں اچھے مسلمان اور خادمین اسلام ثابت ہوسکیں۔ اس تربیتی مرکز میں آنے والے وابستگان تحریک کے اخلاق اور عادات واطوار کو اس طرح آراستہ وپیراستہ کرنے کی کوشش کی جانے لگی کہ جس میں اسلاف کے خانقاہی نظام کی جھلک نظر آنا شروع ہو جائے۔ اس تربیتی مرکز میں ایسی ایمان افروز سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا جن کے ذریعے زندگیاں انقلاب آشنا ہو جائیں اور معاشرے میں دبی ہوئی دینی اقدار کے احیاء کا ذریعہ بن جائیں نیز مصطفوی انقلاب کی خاطر تن من دھن کی بازی لگانے والے بن جائیں۔

23 جون 1993ء بروز بدھ یکم محرم الحرام اسلامی سال کے آغاز کے ساتھ ہی پہلی تربیتی نشست کا آغاز ہوا۔ پھر دعوت عام کی صورت میں رفقاء واراکین، طلبہ جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن، تحریکی کارکنان، عامۃ الناس وفارغ التحصیل طلباء کی آمد بغرض تربیت کا سلسلہ شروع ہوا۔

مصطفوی رضاکاران کا تربیتی کیمپ

یہ کیمپ ان مصطفوی رضاکاران کی تربیت کےلئے لگایا گیا جنہوں نے تحریک کی دعوت کو عام کرنے کےلئے خود کو تین تین ماہ کےلئے وقف کیا ان میں لاہور، راولپنڈی، پشاور اور چکوال کے احباب شامل تھے اس کیمپ کا دورانیہ ایک ہفتہ رہا۔

طلباء جامعہ کیلئے سہ روزہ تربیتی کیمپ کا سلسلہ

قائد محترم کے حکم پر منہاج القرآن اسلامک یونیورسٹی کے تمام طلباء کےلئے ہر ماہ سہ روزہ تربیتی کیمپ میں شرکت کو لازمی قرار دیا گیا جس کی بناء پر طلباء جامعہ باقاعدگی سے تربیتی کیمپ میں شریک ہونے لگے۔ 1998ء کے بعد یہ سلسلہ کچھ عرصہ کےلئے رک گیا، اس دوران سیاسی ورکرز کی تربیت اور حقیقی سیاسی اقدار کے احیاء کے حوالے سے نظامت تربیت اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے لگی۔

بیرون ممالک سے آنے والے وفود کی تربیت

تحریک منہا ج القرآن کے عالمگیر نیٹ ورک کے سبب بیرون ممالک تنظیمات کے عہدیداران، وابستگان اور عام پاکستانی مسلمان حصول تربیت کےلئے تربیتی مرکز آتے ہیں جہاں ان کےلئے مختلف کورسز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ یہ کورسز عربی، انگلش اور اردو زبان میں منعقد ہوتے ہیں۔ اب تک کوریا، فرانس، ڈنمارک، ساؤتھ افریقہ، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، جاپان اور ملائشیا وغیرہ سے احباب تشریف لا چکے ہیں۔

خصوصی تربیتی کیمپس

ٹریننگ اکیڈمی میں معمول کے کیمپس کے علاوہ خصوصی تربیتی کیمپ بھی منعقد کئے جاتے ہیں جن میں چند ایک تفصیل درج ذیل ہے۔

منہاج القرآن علماء کونسل کا تربیتی کیمپ

تحریک منہاج القرآن سے وابستہ علماء کرام کی فکری، نظریاتی وتنظیمی تربیت کےلئے اکتوبر 1994ء میں ایک خصوصی کیمپ کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے تقریباً 250 علماء کرام نے بھرپور شرکت فرمائی اس سہ روزہ کیمپ کی خاص بات یہ تھی کہ حضور قائدانقلاب نے شرکاء کیمپ کو حدیث الرحمۃ المسلسل بالاولیہ کی اجازت بروایت عطا فرمائی۔

فاضلین جامعہ کا خصوصی تربیتی کیمپ

جامعہ کے فاضلین کی ایک بڑی تعداد دعوت وتبلیغ دین کےلئے بیرون ممالک ذمہ داریوں پر مامور ہے۔ قائد محترم کے حکم کے مطابق ان احباب کی خصوصی تربیت کےلئے 2 ماہ کا تربیتی کیمپ منعقد ہوا۔ اس کیمپ کےلئے خصوصی تربیتی نصاب تشکیل دیاگیا جس میں ضروری دینی مطالعہ، اسلام اور سائنس کا باہمی ربط، انگلش عربی بول چال اور خطاب کی مشق کے علاوہ حفظ قرآن واہم فقہی مسائل کے موضوعات شامل کئے گئے جس کے فاضلین پر انتہائی اچھے اثرات مرتب ہوئے۔

المنہاج سپیکرز ٹریننگ کورس

تحریک منہاج القرآن کے ہر سطح اور ہر فورم کے تحریکی عہدیداران میں مشن کے فروغ کےلئے تقریری صلاحیتیں اجاگر کرنے کی اشد ضرور ت ہے۔ اس مقصد کے حصول کےلئے جولائی 1998ء میں 10 روزہ خصوصی المنہاج سپیکرز ٹریننگ کورس منعقد کیا گیا جس میں شرکاء کے اندر تقریر کی صلاحیت کو اجاگر کرنے کےلئے خصوصی لیکچرز اور مشقیں کروائی گئیں۔ علاوہ ازیں فکری، اخلاقی و روحانی تربیت کا بھی اہتمام کیا گیا۔

اسلامی تربیتی کورس

تحریکی وابستگان اور عامۃ المسلمین کی دینی تعلیم وتربیت کےلئے ایک ماہ کے دورانیے پر مشتمل تربیتی کورس منعقد کیا جاتا ہے جس میں قرآن مجید، حدیث پاک، عقائد، فقہ، سیرت، تاریخ، افکارجدید اور تحریک کے منتخب مضامین پڑھائے جاتے ہیں۔ مختلف علمی شخصیات اور اکابرین کے خصوصی لیکچرز ہوتے ہیں، علاوہ ازیں شرکاء کورس کےلئے قرات ونعت اور فن خطابت کی تربیت کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔ کورس کے اختتام پر اسناد دی جاتی ہیں۔

مختلف فورمز کےلئے تربیتی کیمپس کا انعقاد

ٹریننگ اکیڈمی کے زیراہتمام تحریک منہاج القرآن کے مختلف فورمز کے عہدیداران وکارکنان کی تربیت کی جاتی ہے۔ 1994ء سے 1995ء تک عوامی تعلیمی مراکز چلانے کےلئے 21 تربیتی کیمپس برائے سپروائزر منعقد ہوئے۔ 1995ء سے 2004ء تک اساتذہ کے 120 کیمپ منعقد ہوئے۔

عوامی تعلیمی منصوبہ کےلئے سپروائزر کورسز

پاکستان عوامی تحریک کے زیراہتمام 1993ء میں قائد تحریک نے ملک گیر تعلیمی Network عام کرنے کیلئے ایک وسیع ترعوامی تعلیمی منصوبہ کا آغاز کیا جسے عملی جامہ پہنانے کےلئے تربیتی مرکز نے فعال کردار ادا کیا اور تین ماہ کے شارٹ کورسز کے ساتھ 95 - 1994 میں 21 تربیتی کیمپس برائے تیاری سپروائزر عوامی تعلیمی مراکز منعقد کئے اور دیکھتے ہی دیکھتے 400 سے زائد عوامی تعلیمی مراکز چند مہینوں میں قائم کر دیئے گئے۔ اتنے بڑے تعلیمی منصوبہ کو چلانے کےلئے جہاں افرادی قوت کی ضرورت تھی وہاں ان کی تربیت کرنا اس سے بھی زیادہ ضروری امر تھا لہذا نظامت تربیت کے مرکز پر سپروائزرکی تربیت کی پلاننگ کی گئی اور تین ماہ کے مختصر عرصہ میں ان حضرات کو ایسے تربیتی مراحل سے گزارا جاتا ہے کہ ان میں ایک معلم، داعی، روحانی مربی ا ور خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار مرد حر کی خصوصیات بدرجہ اتم نظر آتیں۔ان سپروائزر حضرات نے نہ صرف تعلیم وتعلم کی تربیت حاصل کی بلکہ بے شمار روزمرہ کے ضروری فنی معاملات میں بھی لوگوں کی راہنمائی کا کام کر سکتے مثلاً قانونی مدد، زراعت کے مسائل اور حفظان صحت کے اصول وغیرہ۔

عوامی تعلیمی مراکز کا نصاب 6 ماہ کےلئے تیار کیا گیا تھا اوراس نصاب کی تکمیل کے بعد اگلے گاؤں کا انتخاب کرنا ضروری تھا۔ عوامی تعلیمی مراکز کی کامیابی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب ایک گاؤں سے عوامی تعلیمی مرکز دوسرے گاؤں منتقل کرنے کی بات ہوئی تو لوگ رو پڑتے اور کہتے کہ خدارا ہمیشہ ہمیشہ کےلئے تعلیمی مرکز اسی گاؤں میں رہنے دیاجائے۔ یہی وجہ تھی کہ اس عوامی تعلیمی منصوبہ کو بعد میں منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت منہاج پرائمری سکول، منہاج پبلک سکول، منہاج ماڈل سکول اور منہاج اسلامک سنٹرز کے نام سے جاری رکھا اور آج بھی یہ تعلیمی منصوبہ کامیابی سے اپنے مقاصد کی طرف رواں دواں ہے۔

ان سکولوں کے قیام وانصرام کےلئے اہل وطن اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے اپنی لازوال قربانیوں کا سلسلہ شروع کیا تو دیکھتے ہی دیکھتے 572 تعلیمی ادارے قائم ہوگئے۔ اب بھی ان تعلیمی اداروں کے اساتذہ اور طلبہ وطالبات کی اخلاقی، روحانی، تعلیمی اور سماجی تربیت کےلئے نظامت تربیت فعال کر دار ادا کر رہی ہے۔

اساتذہ کے تربیتی کیمپس

1995ء تا 2004ء منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت چلنے والے سکولز کے اساتذہ جن میں خواتین وحضرات شامل ہیں کے تقریباً 120 تربیتی کیمپس کا انعقاد کیا جا چکا ہے ان کیمپس میں سینکڑوں کی تعداد میں اساتذہ شریک ہو کر تعلیمی وتدریسی اور اخلاقی وروحانی تربیت حاصل کر کے انقلاب آشنا ہو چکے ہیں۔ ان اساتذہ کی تربیت کا سلسلہ آج بھی جاری وساری ہے۔ زونل سطح پر بھی تین تین روزہ تربیتی کیمپس کا انعقاد کر کے ان کےلئے ریفریشر کورسز کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

منہاجیئنز کے تربیتی کیمپس

جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن کے فارغ التحصیل منہاجیئنز اس وقت نہ صرف وطن عزیز میں بلکہ دیارغیر کے تقریباً 70 ممالک میں بھی اپنی دعوتی وتبلیغی اور تحریکی وانقلابی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وطن عزیز میں اکثر اہم تعلیمی ادارہ جات، اسلامک سنٹرز اور تحریک منہاج القرآن میں اہم ذمہ داریوں پر فائز لوگوں کی تعداد میں سے ایک کثیر اور بھاری تعداد منہاجیئنز کی ہے جن کی اخلاقی وروحانی، دعوتی وتبلیغی، فکری ونظریاتی اور تجدیدی واجتہادی تربیت کےلئے نظامت تربیت ہر وقت کوشاں رہتی ہے اور قبلہ قائدمحترم سے وقت حاصل کر کے ہفت روزہ، سہ روزہ اور عشرہ اعتکاف کے موقع پر تربیتی عمل سے گزارا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ مرکزی سطح پر ایک دعوۃ اینڈ ٹریننگ اکیڈمی کا آغاز کیاگیا ہے۔ جس کے تحت داعیین تحریک کی تیاری، خطباء وآئمہ کی تیاری اور مؤثر وفعال کارکنوں کی آبیاری کا پراسیس مکمل ہو جاتا ہے نیز تحریک منہاج القرآن کی مختلف نظامتیں اپنے کارکنوں کی تربیت کےلئے موسم گرما میں سرد علاقوں کا بھی انتخاب کرتی ہیں تاکہ قدرتی نظاروں میں بیٹھ کر ذکر الٰہی اور معرفت توحید ورسالت سے اپنے قلوب واذہان کو مستفیض کیا جا سکے۔

تعلیم وتربیت سے مسلح یہ منہاجیئنز آج تحریک منہاج القرآن کی کئی ایک نظامتوں پر کلیدی ذمہ داریوں پر فائض ہیں۔ ان نظامتوں میں نظامت دعوت، نظامت تربیت، نظامت تنظیمات، نظامت اجتماعات اور نظامت تعلیمات قابل ذکر ہیں۔

مرکزی نظامتوں کےلئے تربیتی نظام

  1. ہر روز صبح اسمبلی میں قبلہ قائدانقلاب کے خصوصی تربیتی خطابات، مناجات اور لیکچرز کے ویڈیو کیسٹس سنوائے جاتے ہیں۔
  2. جمعۃ المبارک کے دن صبح اسمبلی میں جملہ سٹاف تلاوت کلام مجید کرتا ہے اور آخر میں جملہ وابستگان تحریک کے مرحومین کی بخشش کیلئے دعا کی جاتی ہے۔
  3. ہاسٹل میں مقیم احباب کو صوم وصلوٰۃ کا پابند بنانے کےلئے ناظمین صلوٰۃ کی تقرری عمل میں لائی گئی ہے۔
  4. ہاسٹل میں مقیم تمام طلباء و سٹاف کی اخلاقی وروحانی تربیت کےلئے ماہانہ شب بیداری کے علاوہ ہفتہ وار محفل ذکر ونعت کا اہتمام کیا جاتاہے۔
  5. ہر تین ماہ کے بعد تین روزہ تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیاگیا ہے۔
  6. پروفیشنل تربیت کےلئے بھی لائحہ عمل تیار کیا جا رہا ہے۔
  7. ہر ادارے میں نظامت تربیت اور ہاسٹل وارڈن مل کر تربیتی سرگرمیاں بروئے کار لاتے ہیں۔

تبصرہ

تلاش

ویڈیو

Minhaj TV
Quran Reading Pen
We Want to CHANGE the Worst System of Pakistan
Presentation MQI websites
Advertise Here
Top