شہر اعتکاف 2008ء : پہلا دن (اعتکاف ڈائری)

شہر اعتکاف سے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایم ایس پاکستانی
(معاون : محمد نواز شریف)

مورخہ 22 ستمبر 2008ء کی صبح نماز فجر کے بعد معتکفین مسجد کے صحن میں انفرادی ذکر اذکار کے بعد اشراق کے وقت کا انتظار کر رہے تھے۔ مسجد کے شمالی کونے میں موجود سلمان نامی معتکف جو لاہور کا رہائشی ہے، نے بتایا کہ میری فیملی کے 7 افراد شہر اعتکاف میں موجود ہیں جن میں چار خواتین بھی ہیں۔ اس نے بتایا کہ گزشتہ 13 سال سے اعتکاف میں دس دن کے لیے ہم لوگ اسی طرح ذوق و شوق سے شرکت کر رہے ہیں۔ اس مرتبہ معتکفین کی کثیر تعداد نے گزشتہ تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔

دربار غوثیہ کے سائے میں قائم شہر اعتکاف کے روحانی و وجدانی منظر میں معتکفین انفرادی ذکر اذکار کے بعد نماز اشراق ادا کر رہے تھے۔ نماز فجر کے بعد آرام کے وقفے میں بھی کئی بندگان خدا تلاوت قرآن پاک کرنے میں محو تھے۔ دوسری طرف مسجد کے صحن میں دور دور تک بیٹھے لوگ انفرادی ذکر اذکار میں مسلسل مصروف تھے۔ دربار غوثیہ پر دور سے دعائیہ حاضری دینے والوں کا تانتا بھی بدستور بندھا ہوا تھا۔ ایسے روح پرور منظر میں نماز چاشت کا وقت ہو گیا تو دیکھتے ہی دیکھتے ایک بار پھر مسجد کے صحن میں نمازیوں کا رش بڑھ گیا۔

نماز ظہر دو بجے ادا کی گئی۔ بعد از ادائیگی نماز 8 الگ الگ اجتماعی تربیتی حلقہ جات کا انعقاد شروع ہوا۔ مرکزی ناظم دعوت رانا محمد ادریس قادری اور حافظ محمد سعید رضا بغدادی کے تربیتی حلقے مسجد کے صحن میں جاری تھے۔ سہ پہر تین بج کر سات منٹ پر شہر اعتکاف اور لاہور بھر میں جب اچانک تیز ہوا اور آندھی چلنا شروع ہوئی تو بادباراں میں یہ آندھی طوفان کا رخ اختیار کر گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے تیز ہوا اور بارش میں طوفان نے ہنگامی رنگ اختیار کر لیا۔ اس طوفان اور آندھی کے دوران شہر اعتکاف کے گراؤنڈ والے حصہ کو اس ناگہانی صورتحال کا سامنا تھا، تھوڑی ہی دیر میں ٹینٹ اڑنا شروع ہوگئے، لوہے کی گرل سے بنے پنڈال کا حصہ تیز ہواؤں کا مقابلہ نہ کر سکا اور گرنا شروع ہو گیا۔ دوسری طرف مسجد کے صحن میں عارضی چھت کے نیچے بیٹھے معتکفین نے اس منظر کو دیکھتے ہی فوری وہاں سے نکلنا شروع کر دیا اور محفوظ جگہوں کو جانے لگے۔ دوسری طرف انتظامیہ نے حفاظتی تدابیر کے فوری ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا اور گراؤنڈ میں موجود معتکفین کے لیے مرکزی اعتکاف گاہ کا دربار غوثیہ والا داخلی دروازہ بھی کھول دیا۔ معتکفین نے سامان کو محفوظ جگہوں پر منتقل کرنا شروع کر دیا۔ سہ پہر 3 بجکر 16 منٹ پر جب تیز آندھی، طوفان اور بارش کی شدت میں اضافہ ہوا تو مسجد کے صحن میں قائم عارضی چھت آہستہ آہستہ نیچے آنا شروع ہو گئی۔ یہ چھت جس کے نیچے دونوں اطراف میں 12 پلر تھے اندر کی طرف جھکنا شروع ہو گئے۔ چھت گرنے کا عمل اچانک یا ہنگامی نہیں ہوا بلکہ دو تین منٹ میں آہستہ آہستہ یہ واقعہ پیش آیا۔

چھت گرنے سے معمولی زخمی ہونے والوں میں تین افراد شامل تھے جنہیں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیرانتظام میڈیکل کیمپ میں پہنچا دیا گیا۔ جبکہ اس سارے عمل سے بے نیاز مسجد کے صحن میں سونے والا ایک شخص رات گئے خالق حقیقی سے جا ملا۔ جس کی نماز جنازہ صبح شیخ الاسلام نے خود پڑھائی جس میں شہر اعتکاف میں موجود ہزاروں معتکفین نے شرکت کی۔

معتکفین کی آزمائش کا یہ لمحہ جو طوفانی بارش اور آندھی نے بپا کر دیا تھا، سے نمٹنے کے لئے معتکفین نے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے رضاکاران کے ساتھ مل کر انتظامیہ کی ہدایت اور تعاون سے امدادی کاروائیاں شروع کر دیں۔ اس دوران ساڑھے تین بجے میڈیا کے نمائندے، ایمبولینس سروس اور ریسکیو 1122 سمیت دیگر ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے عملہ اور کارکن جامع المنہاج کے باہر موجود تھے۔ ابتدائی طور پر مختلف ٹی وی چینلز نے یہاں زیادہ نقصان کی غلط خبریں بھی نشر کیں تاہم سہ چار بجے ابتدائی ہنگامی حالات سے نمٹنے کے بعد تحریک منہاج القرآن کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر رحیق احمد عباسی، نائب ناظم اعلیٰ شیخ زاہد فیاض اور ڈائریکٹر میڈیا ڈاکٹر شاہد محمود نے شہر اعتکاف سے براہ راست پریس کانفرنس کر کے لوگوں کو اصل صورتحال سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر ناظم اعلیٰ نے کہا کہ شدید آندھی، بارش اور طوفان کی وجہ سے مسجد کے صحن کی چھت گر گئی ہے جس سے صرف تین افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد دے دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کارکنان اور معتکفین نے اپنی مدد آپ کے تحت فوری صورتحال پر قابو پا لیا ہے اس لیے یہاں کوئی ہنگامی حالت نہیں ہے۔

پریس کانفرنس کے بعد نماز عصر اور پھر مغرب کے بعد بھی ہلکی ہلکی بارش کا سلسلہ جاری رہا لیکن اس کے باوجود شہر اعتکاف کے منتظمین نے صورت حال پر قابو پا لیا۔ اس سارے منظر نامہ میں معتکفین کا جذبہ دیدنی تھا اور کوئی ایک معتکف بھی ہنگامی صورتحال سے پریشان ہو کر اعتکاف توڑ کر نہیں گیا۔ دوسری طرف جامع المنہاج کی عمارت کے اندر معتکفین نے فوری متاثرہ معتکفین کو رہائش کے لیے جگہ فراہم کی اور ہزاروں معتکفین بحفاظت رہے۔

نماز مغرب سے چند منٹ قبل ہر حلقہ میں افطاری اور کھانا پہنچ چکا تھا۔ ہر طرف سے دورود و سلام کی فضاؤں میں کہیں بھی یہ نہیں لگتا تھا کہ یہاں کچھ دیر قبل ہنگامی صورتحال پیش آئی ہے۔

دوسری طرف خواتین کے شہر اعتکاف میں ٹینٹوں سے بنے پنڈال گرنے کے علاوہ کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا۔ اس کے باوجود منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ورکرز اور دیگر امدادی کارکن کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وہاں موجود تھے۔ تمام معتکفات کو رہائش چونکہ عمارت میں دی گئی تھی اس لئے وہاں کسی ایسی صورتحال کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

مرکزی شہر اعتکاف میں نماز عشاء ساڑھے نو بجے ادا کی گئی۔ اس سے قبل انتظامیہ نے جگہ کم ہونے کی وجہ سے انفرادی طور پر نماز عشاء کی جماعت کروانے اور اپنے اپنے حلقوں میں نماز تراویح ادا کرنے کی اجازت دیدی تھی۔ نماز عشاء اور تروایح مسجد کے ہال کے علاوہ حلقوں میں بھی الگ الگ ادا کی گئی۔

نماز تروایح کے بعد انتظامیہ ساؤنڈ سسٹم بحال کرنے میں کامیاب ہو گئی جبکہ خواتین کے شہر اعتکاف میں بھی آواز اور پروجیکٹرز کو بحال کر دیا گیا۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے خطاب سے قبل مسجد کی بیسمنٹ میں بھی پروجیکٹرز کو بحال کر دیا گیا۔

خطاب شیخ الاسلام

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اپنے خطاب کی دوسری نشست میں نہج البلاغہ سے درس تصوف دیا۔ نہج البلاغہ کا تعارف کراتے ہوئے آپ نے کہا کہ یہ وہ تصنیف ہے جس میں حضرت علی علیہ السلام کے اقوال کو جمع کیا گیا ہے۔ آپ نے بتایا کہ پہلی تین صدیوں میں حضرت علی کے خطابات تحریر ہوتے رہے تھے۔ یہ کتاب اہل تشیع کے نزدیک صحاح ستہ کا درجہ رکھتی ہے۔

حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں فرمایا کہ اے دنیا میرے سامنے سے دور ہو جا۔ اس سے مراد وہ دنیا ہے جو بندے کو ذلیل کر دیتی ہے۔ آپ نے کہا کہ دنیا بہت قلیل اور انسان کا سفر بہت طویل ہے، اس لیے اے انسان تو اس دنیا میں نہ کھو، تیرا سفر طویل ہے، کہیں ادھورا نہ رہ جائے۔ آپ نے کہا کہ لوگو زاہدوں والی زندگی بسر کرو۔ زاھد وہ ہوتا ہے جو دنیا میں رہتا ہے لیکن دنیا اس میں نہیں رہتی۔

شیخ الاسلام نے کہا کہ جو شخص خواہشات نفس سے پاک ہو جاتا ہے وہ صوفی بن جاتا ہے۔ خواہشات نفس کی دوری اسے جنت کے قریب کر دیتی ہے دوسری طرف خواہشات نفس کے تابع ہونے والا جنت سے دور ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انسان کو جہنم کا خوف ہو تو وہ حرام سے بچتا ہے۔ اس لیے آپ بھی اگر جہنم سے ڈرتے ہو تو اپنی زندگی میں حرام نہ داخل ہونے دو۔

آپ نے امید کا مفہوم سمجھاتے ہوئے کہا کہ امید ایک سیراب ہے جس نے ہمیں دکھی کر دیا ہے لہذا لوگو اللہ کے سوا کسی اور سے امید نہ رکھنا۔ جب امیدیں پوری نہیں ہوتیں تو ماں باب کا بھی دل ٹوٹ جاتا ہے کہ اولاد نے توقعات پوری نہیں کیں۔ آپ نے کہا کہ اس کے برعکس صوفی کسی سے امید نہیں رکھتا اور وہ جو کچھ بھی کرتا ہے اللہ کے لیے کرتا اور اسی سے ہی امید رکھتا ہے۔

آپ نے کہا اے انسان! جھوٹی امیدوں سے بچ، اس امید نے ہی تجھے ناامید کر دیا ہے اور حقیقت میں امید ہی وہ شے ہے جو بندے کو ناامید کر دیتی ہے۔ اس لیے بندے اللہ پر امید رکھ جو کبھی ناامید نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ پر امید رکھ کر سب امیدیں توڑ دو تو کامیاب ہو جاؤ گئے۔ اولیاء و صوفیاء کرام کے ہاں یہی تصوف اور یہی تعلیمات ہیں۔ اس کے لیے آپ نے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کشف المحجوب، عوارف المعارف، احیاء علوم الدین، رسالہ قشیریہ، طبقات سلمی، قوت القلوب، غنیتہ الطالبین اور فتوح الغیب سمیت کل اولیاء کی کتب میں یہ درس ہے کہ بندے کو صرف اللہ سے ہی امید رکھنی چاہیے۔

آپ نے کہا کہ تصوف اللہ سے کٹے بندوں کو اللہ سے جوڑ دیتا ہے۔ اللہ سے دوری کو ختم کر دیتا ہے۔ پتھر جیسے دلوں میں رقت پیدا ہو جاتی ہے اور پھر تصوف بندے کو گدا سے شاہ بنا دیتا ہے۔ تحریک منہاج القرآن اور شر اعتکاف تصوف کی وہ بستی ہے جہاں گدلے دلوں کو روحانیت کے فیض سے دھویا جا رہا ہے۔ یہ ایک دھوبی گھاٹ ہے جہاں ہر کوئی آ کر اپنے من کو اجلا کر سکتا ہے۔ آپ نے معتکفین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شہر اعتکاف میں کوئی معتکف یہ مت سمجھے کہ اس نے منہاج القرآن میں آ کر اعتکاف بیٹھ کر احسان کیا ہے۔ ایسا نہیں ہے بلکہ یہ سوچ گناہ ہے۔ یہ تو اللہ کا کرم ہے کہ اس نے آپ کو اپنے گھر کے لیے مہمان منتخب کیا۔ آپ دس دن اللہ کے مہمان ہیں تو یہ صرف اسی کا ہی کرم ہے۔ اس لیے ہمیں اپنی ایسی سوچ دلوں سے نکال کر اصلاح احوال کی طرف لگانی چاہیے۔

جھلکیاں

  1. اعتکاف میں سیکیورٹی کے انتظامات بدستور قائم رہے اور باہر سے آنے والے وزٹرز کی خصوصی چیکنگ کی جاتی رہی۔
  2. طوفان اور آندھی سے چھت گرنے کے وقت تمام معتکفین اپنے اپنے اجتماعی حلقوں میں مصروف تھے۔
  3. چھت گرنے کے بعد معتکفین کو بھگدڑ سے بچنے کے اعلانات کیے جاتے رہے۔
  4. ناظم اعلیٰ نے معتکفین کو حفاظتی انتظامات کی ہدایات دیں۔
  5. گراؤنڈ سے متاثر ہونے والے معتکفین فوری اپنے سامان کے ساتھ جامع المنہاج کی اعتکاف گاہ میں منتقل ہو گئے۔
  6. طوفان اور آندھی کی وجہ سے غوثیہ بلاک میں قائم اعتکاف گاہ سمیت دیگر بلاکس میں بجلی کا نظام خود بند کر دیا گیا جسے رات کو بحال کیا گیا۔
  7. اعتکاف گاہ میں پانی نکالنے کے لیے ٹربائن لگائی گئیں۔
  8. منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن، ایم ایس ایم اور منہاج یوتھ لیگ کے کارکنوں کے علاوہ معتکفین نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا۔
  9. چھت گرنے کے واقعہ کے بعد ڈسپنسری کے باہر متعکفین کا رش لگ گیا جو تین زخمی افراد کی خیریت معلوم کرنا چاہتے تھے۔
  10. انتہائی ہنگامی حالات کے باوجود انتظامیہ نے معتکفین کو بروقت کھانا فراہم کیا تاہم کسی وجہ سے کھانا نہ کھانے والوں کے لیے شب ساڑھے دس بجے کھانے کی فری موبائل سروس مہیا کی گئی۔
  11. آندھی اور طوفان کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے حوالے سے شیخ الاسلام نے اپنے خطاب سے قبل کہا کہ یہ سب آپ کے لیے آزمائش ہے۔
  12. شیخ الاسلام نے بتایا کہ شدید آندھی اور طوفان کے باوجود لنگر خانے میں کھانا پکتا رہا اور چولہوں میں آگ جلتی رہی جو اللہ کی قدرت ہے۔
  13. شیخ الاسلام کا خطاب 12 بجکر 20 منٹ پر شروع ہوا اور اڑھائی بجے تک جاری رہا۔

تبصرہ

تلاش

ویڈیو

Minhaj TV
Quran Reading Pen
We Want to CHANGE the Worst System of Pakistan
Presentation MQI websites
Advertise Here
Top