حکمرانوں کو جس کمیشن کی رپورٹ پسند نہ آئے، اسے قبول نہیں کرتے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری

حکمرانوں کی سانحہ کوئٹہ کمیشن پر تنقید ’’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘‘والی ہے: سربراہ عوامی تحریک
ماڈل ٹاؤن کمیشن کی رپورٹ کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوا، کمیشن نے زمینی حقائق کی عکاسی کی
اگر سپریم کورٹ کے ججز کی انکوائریاں بھی میرٹ پر پورا نہیں اترتیں تو پھر فرشتے کہاں سے آئیں گے؟
قوم ایک بار پھر جان لے موجودہ حکمرانوں کے احتساب کیلئے کوئی ادارہ سلامت نہیں بچا، ردعمل

لاہور (17 دسمبر 2016) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ حکومت کے ایک وزیر کی طرف سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کمیشن کی رپورٹ پر تنقید باعث حیرت نہیں کیونکہ جس عدالتی کمیشن کی رپورٹ حکمرانوں کی مرضی کی نہیں ہوتی وہ اسے قبول نہیں کرتے، کمیشن نے زمینی حقائق کی عکاسی کی۔ جسٹس علی باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوا۔ اگر سپریم کورٹ کے ججز کی انکوائریاں بھی میرٹ پر پورا نہیں اترتیں تو فرشتے کہاں سے آئیں گے؟ قوم ایک بار پھر جان لے موجودہ دہشتگردوں کے ہمدرد حکمرانوں کا احتساب کرنے والا پاکستان میں کوئی ادارہ سلامت نہیں بچا۔ وہ گزشتہ روز ٹیلی فون پر مرکزی رہنماؤں سے گفتگو کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی سانحہ کوئٹہ کمیشن پر تنقید ’’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘‘ والی ہے۔ سانحہ ماڈل ٹاؤن کی عدالتی تحقیقات کرنیوالے جسٹس کو بھی حکمرانوں کی تنقید اور ردعمل کا سامنا کرنا پڑا، حکمران اب بندوبست کریں گے کہ کسی ادارے کے اندر سے انفرادی سطح پر بھی کوئی آئین و قانون کے مطابق لفاظی کی حد تک بھی حکومت کا محاسبہ نہ کر سکے۔ قاضی عیسیٰ کمیشن کی رپورٹ کو غیر موثر کرنے کیلےء حکومت منصوبہ بندی کر رہی ہے تا کہ غیر جانبدار صحافی، اینکرز اور اپوزیشن کے حلقے اس رپورٹ کو بطور حوالہ استعمال نہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کمیشن کی رپورٹ کے جملہ مندرجات زمینی حقائق کے عین مطابق ہیں۔ تاہم ہم سمجھتے ہیں کہ یہ تنہا وزرات داخلہ کی نہیں پوری وفاقی اور صوبائی حکومت کی نا اہلی اور ناکامی ہے۔ حکمران بتائیں انکے پاس اس بات کا کیا جواب ہے کہ انہوں نے دہشتگردی کی جنگ کے کیپٹن نیکٹا کو مطلوبہ فنڈز اور اختیارات نہیں دئیے؟

انہوں نے کہا کہ تین سال میں صرف ایک مرتبہ نیکٹا کی ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا، کیا یہ درست نہیں؟ وزیر داخلہ نے کالعدم تنظیم کے سربراہ سے ملاقات کی اور انکے مطالبات تسلیم کئے اور یہ کہ قومی ایکشن پلان پر درجنوں بار عوامی، سیاسی، عسکری، صحافتی حلقوں کے عملدرآمد کے مطالبات کے باوجود قومی ایکشن پلان پر اسکی روح کے مطابق عملدرآمد نہیں ہوا۔ کیا یہ درست نہیں کہ دہشتگردی کے خاتمے کیلےء آج کے دن تک حکومت Counter Narrative دینے میں ناکام رہی اور کیا یہ بھی درست نہیں کہ حکومت کی سر پرستی میں کالعدم تنظیمیں آزادانہ اجتماعات منعقد کر رہی ہیں اور تا حال غیر ملکی فنڈنگ کا خاتمہ ہوا اور نہ ہی مدارس کی سو فی صد رجسٹریشن اور مانیٹرنگ ہو سکی۔ قوم چاہتی ہے کہ ان مدارس کو کنٹرو ل کیا جائے جن کے تانے بانے دہشتگرد تنظیموں سے ملے ہوئے پائے گئے ہیں مگر حکومت کی سوچ اور پالیسی وہ نہیں جو 19 کروڑ عوام کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اپنی اسلامی، آئینی، قومی ذمہ داری نبھاتے ہوئے دہشتگردوں کے باطل نظریات کے ردعمل میں Counter Narrative دیا اور 25 کتابوں پر مشتمل فروغ امن نصاب دیا مگر قومی معاملات میں ذات اور جماعت کے تعصب میں غرق حکمرانوں نے اس سے آج کے دن تک استفادہ نہیں کیا۔ حالانکہ ہم نے تمام تر تحفظات کے باوجود ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں قومی ایکشن پلان کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ حکمران عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے طے شدہ متفقہ امور پر عمل بھی نہیں کرتے اور اگر کوئی آئینی ادارہ اسکی نشاندہی کرے تو اس پر اپنی اصلاح کرنے کی بجائے حملہ آور ہو جاتے ہیں۔

تبصرہ

تلاش

ویڈیو

Minhaj TV
Quran Reading Pen
Presentation MQI websites
Advertise Here
Top