تحریک منہاج القرآن کے 40ویں یوم تاسیس کے موقع پر تجزیہ کار و سنئیر کالم نویس حسن نثار کا پیغام

سب سے پہلے تو میں منہاج القرآن انٹرنیشنل کا شکریہ ادا کروں گا کہ تحریک منہاج القرآن کے 40ویں یوم تاسیس پہ مجھے اس عظیم ادارے اور اس کے عظیم تر رہنما کے بارے میں بات کرنے کا موقع دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری صاحب کے بارے میں بات کرنے کا موقع مجھے اس لیے بھی بڑا خوبصورت لگا کہ میں نے ڈاکٹر صاحب کو جگنو سے آفتاب بنتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ وہ اس طرح کے گورنمنٹ کالج لائلپور جسے اب گورنمنٹ کالج فیصل آباد کہتے ہیں‘ میں ڈاکٹر صاحب مجھ سے سنئیر تھے، وہاں بطور طالبعلم ہی نہیں بلکہ بطور مقرر کے طور پہ بھی اس زمانے میں ڈاکٹر صاحب کا طوطی بولتا تھا اور اس وقت بھی اساتذہ سمیت ہر کوئی یہی کہتا تھا کہ یہ نوجوان ایک غیر معمولی شخصیت بنے گا۔

اس وقت کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ کس پہلو سے شہرت کی بلندیوں کو چھوئیں گے۔ میں کسی خاص پہلو کی بات اس لیے کر رہا ہوں کیونکہ پاکستان کی تہتر سالہ تاریخ میں شاہد ہی کوئی دوسرا اکیلا شخص ایسا ہو جس نے دینی، علمی، فکری، فلاحی اور بیشمار میدانوں میں کام کیا ہو اور جہت میں اس کی اسقدر خدمات ہوں۔

میرا مشاہدہ ہے کہ عام طور جو لوگ اتنے ذہین اور تخلیقی صلاحتیوں کے مالک ہوتے ہیں ان کے اندر انتظامی صلاحتیوں کی کمی ہوتی ہے، یہ عجیب اور مفرد اتفاق ہے کہ ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب ایک بڑے فلاسفر، ایک دانشور ہونے کے ساتھ بےتحاشہ انتظامی صلاحیتوں کے مالک ہیں اور یہ بڑی حیران کن بات ہے۔ اتنے علمی و فلاحی کاموں کے ساتھ دنیا کے سو سے زیادہ ملکوں میں نیٹ ورک قائم کرنا اور اسے سنبھالنا یہ میری فہم سے باہر ہے۔

تحریک منہاج القرآن نے اپنے چالیس سالہ طویل اور خوبصورت سفر کے دوران علم، امن، تحقیق، قرآن و سنت کی حقیقی تعلیمات کے حوالے سے جو خدمات سرانجام دی ہیں اور اسکے ساتھ بےمثل قسم کے تعلیمی و تربیتی ادارے اور بیشمار فلاحی کام انتہائی خاموشی سے کیے ہیں وہ حیران کن ہیں۔ اگر ڈاکٹر صاحب سیاست میں نہ آتے تو شاید لوگوں کو اندازہ ہی نہ ہوتا کہ یہ ایک فرد واحد ہے جو پورے لشکر پر بھاری ہے۔ تعلیمی ادارے بنانا، دینی خدمات اس کے علاوہ مستحقین کی خاموشی سے بےتحاشہ مدد، طبی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے، وسیلہ روزگار اسکیم، غریب و مستحق بچیوں کی اجتماعی شادیوں کی تقریبات، یتیم بچوں کی تعلیم و تربیت کا ادارہ، یہ سب ڈاکٹر صاحب کی ہمہ جہت شخصیت کے مظاہر ہیں، جو دور دور تک کہیں اور دکھائی نہیں دیتے۔

میرے لیے یہ باعث مسرت بھی ہے باعث فکر بھی ہے کہ میں آج اس شخصیت کے بارے میں بات کررہا ہوں جن کے ساتھ میرا محبت اور پیار کا عشروں پہ محیط تعلق ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کو صحت و سلامتی کے ساتھ لمبی زندگی عطا فرمائے۔ آمین

تبصرہ

تلاش

ویڈیو

پیش آمدہ مواقع

Minhaj TV
Quran Reading Pen
We Want to CHANGE the Worst System of Pakistan
Presentation MQI websites
Advertise Here
Top