عربی زبان کے عالمی دن کے موقع پر کالج آف شریعہ میں انٹرنیشنل کانفرنس کا انعقاد

مصر، سوڈان، یمن، تیونس کے لسانی ماہرین، اساتذہ کرام کی انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت
عربی زبان و ادب کے فروغ کیلئے علمائے سوڈان کی بے شمار خدمات ہیں: ڈاکٹر عبدالمحمود سوڈانی
عربی زبان کی اہمیت و افادیت سے انکار کسی صورت بھی ممکن نہیں: شیخ فضل بن محمد القیروانی
عربی زبان ہماری ثقافت کا حصہ اور وحدت کی امید ہے: شیخ خالد الشامی الیمنی
کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسزعربی زبان کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے: ڈاکٹر ممتاز الحسن باروی
کانفرنس سے ڈاکٹر ممتاز احمد سدیدی، ڈاکٹر شفاقت علی بغدادی، ڈاکٹر فیض اللہ بغدادی، ڈاکٹر مسعود احمد مجاہد، ڈاکٹر نبیلہ اسحاق، ڈاکٹر زہیر احمد صدیقی نے خطاب کیا

Arabic Language Day Conference in COSIS

لاہور (18 دسمبر 2020) کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز کے زیراہتمام عربی زبان کے عالمی دن کے موقع پر پُروقار انٹرنیشنل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس کی صدارت پرنسپل کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز ڈاکٹر ممتاز الحسن باروی نے کی۔ کانفرنس میں مصر، سوڈان، یمن، تیونس سے اساتذہ کرام، کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز (منہاج یونیورسٹی) سمیت مختلف یونیورسٹیز کے اساتذہ اور لسانی ماہرین نے شرکت کرتے ہوئے اپنے خیالات سے حاضرین کو مستفید کیا۔ عربی زبان کے ماہرین نے انٹرنیشنل کانفرنس عربی زبان کی اہمیت اور تاریخ کے بارے میں گفتگو کی۔ کالج آف شریعہ کے اساتذہ اور طلبہ نے عربی زبان میں نظم و تقاریر پیش کیں۔

مصر سے تعلق رکھنے والے معروف استاد ڈاکٹر محمد عبدالعظیم الازہری الامصری نے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب کو عربی زبان سے محبت کرنا چاہیے۔ عربی اہل جنت اور ملت اسلامیہ کی زبان ہے۔ مسلمان خوش قسمت ہیں کہ انہیں دنیا کی جامع ترین اور انتہائی ترقی یافتہ زبان ملی۔

سوڈان سے بذریعہ ویڈیو لنک خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالمحمود سوڈانی نے کہا کہ سوڈان ایک عربی ملک ہے، سوڈان میں بسنے والوں کی اکثریت عربی زبان بولتی ہے۔ عربی زبان و ادب کے فروغ کیلئے علمائے سوڈان کی بے شمار خدمات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عربی زبان کے عالمی دن کے موقع پر انٹرنیشنل کانفرنس کا انعقاد کرنے پر کالج آف شریعہ کی انتظامیہ و اساتذہ مبارکباد کے مستحق ہیں، اس طرح کی تقریبات اور کانفرنسز عالمی سطح پر عربی زبان کے فروغ کا باعث بنتی ہیں۔

کانفرنس میں شریک تیونس سے آئے شیخ فضل بن محمد القیروانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ عربی ہر ’’لا الہ الا اللہ‘‘ کہنے والے کی زبان ہے۔ عربی زبان کی اہمیت و افادیت سے انکار کسی صورت بھی ممکن نہیں ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس کی ترویج و اشاعت کیلئے کردار ادا کریں۔

تقریب میں شریک یمن سے آئے استاد شیخ خالد الشامی الیمنی نے اپنے مقالے میں عربی زبان کی عالمی سطح پر اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عربی زبان ہماری ثقافت کا حصہ اور وحدت کی امید ہے۔

پرنسپل کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز ڈاکٹر ممتازالحسن باروی نے انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کریم نے انسانوں کی ہدایت کیلئے عربی زبان کو ہی ذریعہ بنایا ہے۔ آج عربی زبان پر عبور رکھنے والے علما، طلباء اور اساتذہ کی اشد ضرورت ہے۔ کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسزعربی زبان کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر اداروں کو بھی انفرادی اور اجتماعی سطح پر پاکستان میں عربی زبان و ادب کے فروغ کیلئے کام کرنا چاہیے آج کی انٹرنیشنل کانفرنس اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ 18 دسمبر کو عربی زبان کے عالمی دن کے طور پر متعین کرنا ایک اہم فیصلہ ہے جسکی قدر کرتے ہیں۔ کالج آف شریعہ کے طلباء کی عربی زبان میں بول چال، عربی لہجہ اور طرز اساتذہ کی محنت اور عربی زبان سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

کانفرنس سے ڈاکٹر ممتاز احمد سدیدی HOD عریبک، ڈاکٹر شفاقت علی بغدادی الازہری، ڈائریکٹر سٹوڈنٹس افیئرز ڈاکٹر فیض اللہ بغدادی، ڈاکٹر مسعود احمد مجاہد، ڈاکٹر نبیلہ اسحاق، ڈاکٹر زہیر احمد صدیقی، حافظ ساجد محمود الازہری و دیگر نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی عالمی سطح پر عربی زبان و ادب کے فروغ کیلئے خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اپنے تحقیقی مقالہ جات اور ثقافتی معلومات کو شرکائے کانفرنس تک پہنچایا۔

تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر ممتاز احمد سدیدی نے کانفرنس میں شرکت کرنے والے اساتذہ کرام و حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ملکی سلامتی و خوشحالی کیلئے دعا کی۔

Arabic Language Day Conference in COSIS

تبصرہ

تلاش

ویڈیو

Quran Reading Pen
We Want to CHANGE the Worst System of Pakistan
Presentation MQI websites
Advertise Here
Top