قرآنِ کریم نے واضح کر دیا کہ بارگاہِ نبوی میں ادنیٰ سی بے احتیاطی بھی اعمال کی بربادی کا سبب بن سکتی ہے: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
جب بندہ حضور نبی اکرم ﷺ کو عام انسانوں جیسا سمجھ کر مخاطب کرتا ہے، تو وہ اپنے ہی اعمال کو نیست و نابود کر دیتا ہے: شیخ الاسلام کا خطاب
بارگاہِ نبوی ﷺ میں معمولی سے بے ادبی عمر بھر کی عبادتوں سے محروم کر سکتی ہے: خطاب
ادبِ رسول ﷺ ایمان کی روح اور بندگی کی معراج ہے، اور سورۃ الحجرات اس حقیقت کو نہایت جلال اور وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہے۔ قرآنِ مجید ہمیں یہ شعور عطا کرتا ہے کہ بارگاہِ نبوی ﷺ میں معمولی سی بے احتیاطی بھی محض ایک ظاہری لغزش نہیں، بلکہ روحانی زندگی کے لیے تباہ کُن ہو سکتی ہے۔ جب کوئی شخص حضور نبی اکرم ﷺ کو عام انسانوں کی طرح مخاطب کرتا ہے یا ادب کے تقاضوں میں کمی کر بیٹھتا ہے، تو وہ درحقیقت اپنے اعمال کی بنیادوں کو خود ہی منہدم کر دیتا ہے۔ اس تنبیہ کا مقصد محض خوف پیدا کرنا نہیں، بلکہ اہلِ ایمان کو اس اعلیٰ شعور تک پہنچانا ہے کہ محبتِ مصطفی ﷺ کا حقیقی تقاضا کامل ادب اور بے مثال تعظیم ہے۔ یہی ادب بندگی کو قبولیت بخشتا ہے، اور اِس کے بغیر عمر بھر کی عبادات بھی بے وزن ہو جاتی ہیں۔
بارگاہِ نبوی ﷺ کا ادب: ایمان کی بنیاد:
مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: قرآن مجید نے ارشاد فرمایا:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ﴾
’’اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبیِ مکرّم (ﷺ) کی آواز سے بلند مت کیا کرو اور اُن کے ساتھ اِس طرح بلند آواز سے بات (بھی) نہ کیا کرو جیسے تم ایک دوسرے سے بلند آواز کے ساتھ کرتے ہو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے سارے اعمال ہی (ایمان سمیت) غارت ہو جائیں اور تمہیں (ایمان اور اعمال کے برباد ہوجانے کا) شعور تک بھی نہ ہو ‘‘ [الحجرات، 49/2]
اَب میں آپ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا اس آیتِ کریمہ میں کہیں کوئی بے ادبی کا پہلو موجود ہے؟ کیا اس میں کسی گستاخی کا ذکر ہے؟ کیا حضور نبی اکرم ﷺ کے کسی معجزے کا انکار کیا گیا ہے؟ کیا آپ ﷺ کے علم کی وسعت، حُسن و جمال، تصرفات یا شفاعت کا انکار پایا جاتا ہے؟ یا کہیں ایسا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام معاذ اللہ بے ادبی یا گستاخی کے انداز میں لیا گیا ہو؟ ہرگز نہیں۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو یہ حکم فرمایا کہ اپنی آواز کو میرے محبوب ﷺ کی آواز سے بلند نہ کرو، اور نہ ہی انہیں اس انداز میں پکارو جیسے تم ایک دوسرے کو پکارتے ہو۔ پھر اس کا نتیجہ بیان فرمایا: ’’اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُکُمۡ‘‘ یعنی تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں گے، برباد ہو جائیں گے، گویا تم نے کبھی کوئی نیکی کی ہی نہ ہو۔
مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ حکم صرف حضور ﷺ کی ظاہری حیات تک محدود نہیں، بلکہ آج بھی روضۂ اقدس کے پاس یہی ادب برقرار ہے۔ اہلِ محبت وہاں بھی دھیمی اور پست آواز میں گفتگو کرتے ہیں، کیونکہ بارگاہِ نبوی میں آواز بلند کرنا آج بھی اسی حکم کے تحت آتا ہے۔
آواز بلند ہونے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں: یا تو کوئی شخص جان بوجھ کر گستاخی اور بے ادبی کے ارادے سے آواز بلند کرے، یا بلا ارادہ محض اتفاقًا اس کی آواز بلند ہو جائے۔ لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ اس آیت میں کوئی شرط بیان نہیں کی گئی کہ صرف نیتِ گستاخی کی صورت میں اعمال ضائع ہوں گے۔ بلکہ حکم مطلق ہے۔
قرآن نے اہلِ ایمان کو مخاطب کر کے فرمایا، اور اہلِ ایمان سے یہ گمان ہی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ جان بوجھ کر گستاخی کریں گے۔ اس لیے بغیر کسی تخصیص کے فرمایا کہ اگر تمہاری آواز میرے محبوب ﷺ کی آواز سے بلند ہو گئی، اور تم نے انہیں عام لوگوں کی طرح پکارا، تو یہ طرزِ عمل اس بات کی علامت ہوگا کہ تم نے میرے محبوب کو دوسروں جیسا سمجھ لیا۔
نتیجتًا فرمایا کہ تمہارے تمام اعمال چاہے وہ نماز ہوں، روزے، حج، زکوٰۃ، استغفار، تہجد یا پوری زندگی کی عبادات سب ضائع ہو جائیں گے، اور تم خالی ہاتھ رہ جاؤ گے۔
حبطِ اعمال کا قرآنی تصور اور ادبِ نبوی ﷺ کی اہمیت:
شیخ الاسلام نے مزید کہا کہ: حج ایک ایسا فریضہ ہے جو پوری زندگی میں صاحبِ استطاعت پر صرف ایک بار فرض ہوتا ہے۔ کوئی شخص بڑی محنت، مشقت اور قربانی کے ساتھ یہ سعادت حاصل کرتا ہے، تمام مناسک ادا کرتا ہے، اور دنیا اُسے ’’حاجی‘‘ کہہ کر عزت دیتی ہے۔ کوئی خوش نصیب ایسا بھی ہوتا ہے جسے بار بار حج نصیب ہو حتیٰ کہ اگر اسے سو سال عمر ملی تو اس نے سو حج ادا کیے۔
اسی طرح ایک شخص پوری زندگی روزے رکھتا رہا، دن کا صائم اور رات کا قائم رہا۔ اس نے عمر بھر زکوٰۃ اور صدقات دیے، کروڑوں اور اربوں روپے اللہ کی راہ میں خرچ کیے، غریبوں کی مدد کی، ہزاروں لاکھوں تسبیحات پڑھیں، اور عبادات کا ایسا ذخیرہ جمع کیا کہ دنیا حیران رہ گئی۔
لیکن اگر یہی شخص ایک لمحے کے لیے حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں اپنی آواز بلند کر بیٹھا، اور آپ ﷺ کو عام انسانوں کی طرح پکار لیا؛ یعنی اپنے طرزِ عمل میں حضور ﷺ کو دوسروں جیسا سمجھ لیا تو اس نے زبان سے کوئی گستاخانہ کلمہ ادا نہیں کیا، نہ نبوت یا رسالت کا انکار کیا، نہ کسی حکم سے انحراف کیا، مگر صرف آواز بلند کرنے کی یہ معمولی سی لغزش اس کے تمام اعمال کو برباد کرنے کے لیے کافی ہو گئی۔
قرآن مجید اس پر سخت تنبیہ کرتا ہے کہ ایسے شخص کے تمام اعمال ضائع ہو جاتے ہیں، اور اسے خود اس کا شعور بھی نہیں ہوتا: ’’وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ‘‘۔ یعنی اسے خبر تک نہیں ہوتی کہ اس کی ساری محنت رائیگاں چلی گئی۔
سوچیے! اگر انسان کو معلوم ہو جائے کہ اس کے اعمال ضائع ہو گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو گیا ہے، تو وہ فوراً توبہ کرے گا، روئے گا، گڑگڑائے گا اور اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کرے گا۔ مگر یہاں معاملہ یہ ہے کہ اسے خبر ہی نہیں ہونے دی جاتی، تاکہ وہ توبہ کا موقع نہ پا سکے۔
یہ حقیقت نہایت قابلِ غور ہے کہ قرآنِ مجید میں جہاں بھی اعمال کے ضائع ہونے کا ذکر آیا ہے، وہاں اسے کفر کی علامتوں میں شمار کیا گیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بارگاہِ نبوی ﷺ میں ادنیٰ سی بے احتیاطی بھی کس قدر سنگین انجام کا باعث بن سکتی ہے۔
آخر میں شیخ الاسلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں کافروں اور مشرکوں کے اعمال کے ضائع ہونے کا ذکر فرمایا، اور یہاں اہلِ ایمان کو مخاطب کر کے یہی وعید سنائی کہ اگر تم نے میرے محبوب ﷺ کی بارگاہ میں بے ادبی کی تو تمہارے اعمال بھی غارت ہو جائیں گے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بارگاہِ مصطفی ﷺ میں گستاخی کو قرآن نے نہایت سنگین جرم قرار دیا ہے۔
اب یہاں ایک اہم فرق سمجھنے کی ضرورت ہے: اگر کسی نے جان بوجھ کر، گستاخی اور استخفاف کے ارادے سے اپنی آواز بلند کی، تو وہ یقینًا کفر کا مرتکب ہوا، اور اسی وجہ سے اس کے اعمال برباد ہو گئے۔ لیکن اگر کسی نے بلا ارادہ، محض غفلت یا بے احتیاطی سے آواز بلند کر دی، تو وہ کافر تو نہیں ہوا، مگر اس نے ایسا طرزِ عمل اختیار کیا جو کفر کے راستے کی طرف لے جانے والا ہے۔
اس میں اہم نکتہ یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں اعمال ضائع ہو گئے چاہے نیتِ گستاخی ہو یا نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہاں اعمال کے ضائع ہونے کی اصل وجہ کفر نہیں، بلکہ بارگاہِ مصطفی ﷺ میں بے ادبی ہے۔
گویا پیغام یہ ہے کہ اگر میرے محبوب ﷺ کی آواز سے تمہاری آواز بلند ہو گئی، تو تمہاری تمام عبادات نمازیں، روزے، تسبیحات اور دیگر نیک اعمال سب بے وقعت ہو جائیں گے۔ کیونکہ یہ سب عبادات تمہیں اس لیے عطا کی گئی تھیں کہ تم میرے محبوب ﷺ کے سچے غلام بنو، ان پر کامل ایمان لاؤ، اور ان کے ادب کو اپنا شعار بناؤ۔
حقیقت یہ ہے کہ ایمان سراسر ادب کا نام ہے۔ اگر ادب باقی نہ رہے، تو پھر باقی اعمال کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ اللہ تعالیٰ کو نہ تمہارے سجدوں کی حاجت ہے اور نہ تمہاری تسبیحوں کی یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تمہیں اپنے محبوب ﷺ کی تعظیم اور توقیر کا سلیقہ آ جائے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جہاں ادب کی انتہا کا حکم دیا، وہیں ادنیٰ سی بے ادبی کو بھی برداشت نہیں فرمایا؛ ایسی بے ادبی جسے عام ذہن شاید بے ادبی بھی نہ سمجھے، مگر بارگاہِ نبوی ﷺ میں وہ بھی ناقابلِ قبول ہے۔
بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ