انتہا پسندانہ سوچ کا خاتمہ سوسائٹی کے متحرک کردار سے ممکن ہے: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری
دہشتگردی نے نئے خطرات پیدا کر دیے: ہوم سیکرٹری پنجاب، جامعات مکالمہ کو فروغ دیں: ڈاکٹر نیاز احمد
یونیورسٹیاں صرف علم نہیں دیتیں بلکہ علم پیدا بھی کرتی ہیں: چیئرمین رحمتہ للعالمین اتھارٹی خورشید احمد ندیم
منہاج یونیورسٹی لاہور کے زیراہتمام پہلی بین الاقوامی کاؤنٹرٹیررازم کانفرنس سے مقررین کا خطاب
کانفرنس سے لیفٹیننٹ جنرل (ر) غلام مصطفی، ڈاکٹر برائن جے فلپس، پروفیسر طحہٰ قریشی، ڈاکٹر ترنجیت سنگھ نے بھی خطاب کیا
عالمی کانفرنس میں خرم نواز گنڈاپور، پروفیسر ڈاکٹر خرم شہزاد، ڈاکٹر حسن فاروق مشوانی و دیگر نے خصوصی شرکت کی

لاہور (23مئی 2026) منہاج یونیورسٹی لاہور میں سکول آف پیس اینڈ کاؤنٹر ٹیررازم سٹڈیز اور فورم فار انٹرنیشنل ریلیشنز ڈویلپمنٹ برطانیہ (پاکستان چیئر) اور پنجاب سینٹر آف ایکسی لینس ان کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹرم ازم کے اشتراک سے پرتشدد انتہا پسندی کے تدارک پر بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی چیئرمین بورڈ آف گورنرز منہاج یونیورسٹی لاہور پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ انتہا پسندانہ سوچ کا خاتمہ سوسائٹی کے متحرک کردار سے ہی ممکن ہے، دہشتگردی کو جڑ سے ختم کرنے کے لئے سماجی انصاف اور عوام دوست گورننس ناگزیر ہے، طاقت کے استعمال سے دہشت گردی سے نمٹنا حکمت عملی کا ایک جز ہے، دہشتگردی نے پاکستان کو بے پناہ نقصان پہنچایا، اس سے معاشرتی ڈھانچہ کمزور ہوا، دہشت گردی نظریاتی گمراہی، معاشی محرومی اور ادارہ جاتی کمزوریوں کی وجہ سے پروان چڑھ رہی ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے تین بنیادی اصول بیان کئے اور کہا کہ اسلامی فکری و انتظامی روایات کی بحالی، انتہا پسندانہ بیانیے کی مستند تردید اور پاکستان کے آئینی و قانونی ڈھانچے کو موثر بنا کر ہر قسم کے فکری انتشار اور انتہا پسندی کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو قرآن انسانی جان کی حرمت پر سب سے زیادہ زور دیتا ہے اُس کے پیروکار کسی بے گناہ کی جان کیسے لے سکتے ہیں؟ دہشت گردی اسلام میں ایک سنگین جرم ہے اس حوالے سے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے 600 صفحات کا فتویٰ دیا اور قرآن و سنت سے دہشت گردی، انتہا پسندی اور خودکش حملوں کو حرام ثابت کیا۔
ہوم سیکرٹری پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے اپنے خطاب میں کہا کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خطرات ایک نئی شکل اختیار کر چکے ہیں جن سے نمٹنے کے لئے ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ تعلیمی مراکز اور سول سوسائٹی کے درمیان ایک مربوط تعاون ناگزیر ہے۔ انہوں نے اہم موضوع پر کانفرنس کے انعقاد پر منہاج یونیورسٹی لاہور کو مبارکباد دی۔
چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے اپنے خطاب میں کہا کہ جامعات کو انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے تحقیق اور مکالمے کے علمی کلچر کو فروغ دینا ہوگا، نوجوان نسل کو برداشت، مثبت تنقید اور اعتدال پسندی کے حوالے سے ایجوکیٹ کیا جائے۔ چیئرمین رحمۃ للعالمین اتھارٹی خورشید ندیم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک اہم سوال ہے کہ 25سال کے بعد بھی ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہے ہیں، یہ دیکھنا ہو گا کہ موثر حکمت عملی بنانے میں کہاں کمی ہے؟، یونیورسٹیاں علم دیتی نہیں بلکہ علم پیدا کرتی ہیں، انتہا پسندی کے حوالے سے مذہب اور بنیادی حقوق کا سہارا لیا جاتا ہے دونوں ایشوز کو سنجیدگی کے ساتھ ایڈریس کرنے کی ضرورت ہے۔ مدارس میں کمپیوٹر کی تعلیم دینے سے سوچ نہیں بدلے گی سوچ بدلنے کے لئے نصاب بدلنا ہو گا اور یکساں نظام تعلیم ناگزیر ہے، جب مسلک کی بنیاد پر بورڈز دئیے جائیں گے تو مسلک ہی پھیلے گا، ہمیں سکیورٹی سٹیٹ سے ویلفیئر سٹیٹ کی طرف بڑھنا ہو گا اور اس حوالے سے حضور نبی اکرمؐ کی مبارک زندگی سے سبق حاصل کرنا ہونگے۔ بین الاقوامی کانفرنس سے لیفٹیننٹ جنرل(ر) غلام مصطفی، ڈاکٹر برائن جے فلپس، پروفیسر طحہٰ قریشی، ڈاکٹر ترنجیت سنگھ بٹالہ، رجسٹرار منہاج یونیورسٹی لاہور ڈاکٹر خرم شہزاد، ہیڈ ڈیپارٹمنٹ آف پیس اینڈ کاؤنٹر ٹیرارزم سٹڈیز ڈاکٹر حسن فاروق مشوانی نے بھی خطاب کیا۔
ناظم اعلیٰ منہاج القرآن انٹرنیشنل ڈاکٹر خرم نواز گنڈاپور،بریگیڈیر (ر) ڈاکٹر محمد فیاض، بریگیڈیئر (ر) عمر حیات، کرنل (ر) خالد جاوید، سہیل احمد رضا، شہزاد رسول، سابق آئی جی شوکت جاوید سمیت منہاج یونیورسٹی کے ڈینز،فیکلٹی ممبرز اور طلبہ نے شرکت کی۔


















تبصرہ