بدقسمتی سے ایک اقلیتی گروہ اسلام کی خودساختہ اور من پسند تشریح کے ذریعے اسلام کو پوری دنیا میں بدنام کر رہا ہے : ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

مورخہ: 11 مئی 2009ء

شریعت کے نام پر محدود فکر مسلط کرنے والوں نے وطن عزیز کو بدامنی کی طرف دھکیل دیا
مٹھی بھر شر پسند عناصر کی وجہ سے پر امن پاکستان کا امیج دنیا کے سامنے دھندلا گیا
بدقسمتی سے ایک اقلیتی گروہ اسلام کی خودساختہ اور من پسند تشریح کے ذریعے اسلام کو پوری دنیا میں بدنام کر رہا ہے
خواتین کی تعلیم کو ناجائز قرار دینا اسلام اور قرآن کے خلاف ہے، ایسا عقیدہ رکھنے والے اسلام کی بدنامی کا باعث ہیں
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی کینیڈا سے ٹیلی فونک گفتگو

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے منہاج القرآن علماء کونسل کو کامیاب "تحفظ پاکستان علماء و مشائخ کنونشن" منعقد کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ایک اقلیتی گروہ اسلام کی خودساختہ اور من پسند تشریح کے ذریعے اسلام کو پوری دنیا میں بدنام کر رہا ہے اور اسلام دشمنوں کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے جواز فراہم کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ ان حالات میں علماء مشائخ کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ میدان میں آ کر اسلام کا صحیح چہرہ دنیا کے سامنے پیش کریں۔ انھوں نے کہا کہ اسلام امن، محبت اور علم کے فروغ کا دین ہے، جہالت، تنگ نظری اور انتہاء پسندی کا اس سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ وہ گذشتہ روز منہاج القرآن علماء کونسل کے ناظم سید فرحت حسین شاہ سے کینیڈا سے ٹیلی فونک گفتگو کررہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اسلام تو غیر مسلموں کو بھی امن اور مکمل حقوق دیتا ہے مگر مٹھی بھر شر پسند عناصر کے عمل سے پاکستان کا پرامن امیج دنیا کے سامنے دھندلا گیا ہے۔ تنگ نظر اور محدود فکر کو شریعت کے نام پر مسلط کرنے والوں نے وطن عزیز کو بدامنی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ پاکستان کو عالمی طور پر تنہا اور جنوبی ایشیاء میں اس کی مؤثر اور مضبوط حیثیت کو کمزور کرنے کے لیے اندرونی و بیرونی سازشیں عروج پر ہیں اور بندوق کے زور پر اپنی نام نہاد فکر کو 17 کروڑ عوام پر مسلط کرنے کے لیے ملک کا امن تاراج کیا جارہا ہے۔ فتنہ پرور پاکستان کے امن سے کھیل کر عالمی استعمار کی سازش کو کامیاب کرنے پر تلے ہیں۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا کہ اسلام نے عورت کو 1400 سال قبل ممبر پارلیمنٹ بنایا مگر افسوس، آج محدود سوچ رکھنے والے اس کے لیے تعلیم کے دروازے بند کرکے گھر کا قیدی بنانے کی باتیں کررہے ہیں۔ خواتین کی تعلیم کو ناجائز قرار دینا اسلام اور قرآن کے خلاف ہے ایسا عقیدہ رکھنے والے اسلام کی بدنامی کا باعث ہیں۔ اسلام خواتین کو عزت و احترام اور تعلیم کے برابر مواقع دیتا ہے اور معاشرے میں ان کے عمل، کردار کو یقینی بنانے کی ضمانت فراہم کرتا ہے اس لیے خود ساختہ فکر پر مبنی تصوارات کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔ انھوں نے کہا کہ اسلام کو ایسے پینٹ کیا جارہا ہے جیسے یہ آج کے دور میں قابل عمل نہیں رہا حالانکہ دین مبین انسانیت کو قیامت تک کے لیے مکمل ضابطۂ حیات دیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسلم ریاست کی افواج اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف جنگ اسلام کے سراسر منافی ہے۔ دہشت گردی و انتہاء پسندی، خواتین کے حقوق کی پامالی، مقامات مقدسہ کی بے حرمتی، انسانیت کا قتل عام، خود کش حملے، ریاستی اداروں کے خلاف بغاوت، آئین پاکستان کی پامالی، علاقوں پر مسلح افراد کا قبضہ اور مسلم ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد پر مبنی افکار و نظریات کے حامل لوگوں کا چھوٹا سا اقلیتی گروہ ہے جس کا اسلام کی حقیقی فکر سے کوئی تعلق نہیں اور یہ اسلام کو بدنام کرنے اور اس کے تابناک چہرے کو داغدار کرنے کی گہری سازش کا حصہ ہے۔

تبصرہ

تلاش

ویڈیو

Minhaj TV
Quran Reading Pen
We Want to CHANGE the Worst System of Pakistan
Presentation MQI websites
Advertise Here
Top