سوشل میڈیا کے ذریعے ہم سے رابطہ میں رہنے کے لئے حسب ذیل لنکس ملاحظہ کر یں۔
اللہ رب العزت کے فضل وکرم اور آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صدقہ سے منہاج القرآن ویمن لیگ (حیدر آباد) نے ماہ رمضان المبارک میں مختلف روحانی و تربیتی سرگرمیاں سرانجام دیں۔
صاحبزادہ ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے سلوک و تصوف کے سلسلہ میں موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ کو بطور موضوع منتخب کیا۔ آپ نے کہا کہ موسیٰ علیہ السلام اور یوشع بن نون کا سفر طریقت سلوک و تصوف کا ایک باب ہے، جس میں سالک کے لیے پوری تعلیمات موجود ہیں۔ جس مقام پر کوئی مردہ شے زندہ ہو جائے تو سمجھ لو کہ وہاں خضری صحبت زندہ ہو گئی ہے۔
شیخ الاسلام نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان کی بات ہو تو نابینا لوگوں کی باتوں میں نہ آیا کریں، کیونکہ اس نے تو وہ سورج دیکھا ہی نہیں۔ بہرے کو آواز ہی نہیں سنائی دے گی تو وہ کیا سنے گا۔ جس کی حس ذائقہ نہیں، تو وہ کیا لذت اور حلاوت محسوس کرے گا۔ بس یہ لوگ بھی انوار و تجلیات سے محروم ہیں۔
تحریک منہاج القرآن کے شہر اعتکاف میں 15 اگست 2012ء کو لیلۃ القدر کا عالمی روحانی اجتماع منعقد ہوا۔ جس سے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے خطاب کیا اور خصوصی دعا کی۔ روحانی اجتماع میں شہر اعتکاف کے ہزاروں معتکفین و معتکفات کے علاوہ لاکھوں عشاقان مصطفیٰ مرد و خواتین نے بھرپور مذہبی جوش و خروش سے شرکت کی۔ پروگرام کی تمام کارروائی اے آر وائی کیو ٹی وی Qtv اور www.Minhaj.tv نے شہر اعتکاف سے براہ راست نشر کی جبکہ دیگر ٹی وی چینلز نے بھی اجتماع کی خصوصی کوریج کی۔
شہر اعتکاف میں ہزاروں معتکفین نے65 ویں یوم آزادی کی دعائیہ تقریب میں اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعا مانگی۔ اللہ کی رضا کے حصول کیلئے ملک بھر اور بیرونی دنیا سے شہر اعتکاف میں آنے والوں نے ملکی استحکام، ترقی اور خوشحالی کیلئے دعا کی اور پاکستان کی نعمت عظیم ملنے پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ تحریک منہاج القرآن کے ناظم اعلیٰ ڈاکٹر رحیق احمد نے دعا کرائی۔
مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ (سسٹر) اسلام آباد کے زیراہتمام مقابلہ حسن قرات مورخہ 4 اگست 2012ء کو منہاج المدینہ ہال میں منعقد ہوا۔ پروگرام کی صدارت محترم نصرت امین (ناظمہ منہاج القرآن ویمن لیگ اسلام آباد) نے کی۔
ابتدائی بریفنگ دیتے ہوئے مرکزی ناظمہ ویمن لیگ محترمہ نوشابہ ضیاء نے شرکاء کو شہرِ اعتکاف میں خوش آمدید کہا۔ آپ نے معتکفات سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم آج اس اعتکاف گاہ یعنی تربیتی درس گاہ میں جمع ہیں جہاں ہمیں اپنی عبادات کے ساتھ ساتھ معمولات کو بھی Training process سے گزارنا ہوگا۔
منہاج القرآن ویمن لیگ کے پلیٹ فارم سے منہاج کالج فار ویمن کی طالبات کے لیئے اعتکاف کے حوالے سے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں کالج کی تمام طالبات نے شرکت کی۔ ورکشاپ کی ابتداء میں مرکزی ناظمہ تربیت محترمہ گلشن ارشاد نے اعتکاف کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے طالبات سے کہا کہ انھیں تمام شہروں سے آنے والی معتکفات کا بھر پور طریقے سے خیال ر کھنا ہے اور ہر کام اخلاص نیت کے ساتھ کرنا ہے۔
شیخ الاسلام نے کہا کہ جب آپ اعتکاف بیٹھیں تو یہ نیت کریں کہ میں مسجد میں اس لیے جا رہے ہوں کہ شاید وہاں مجھے اللہ سے محبت کرنے والی کوئی سنگت مل جائے۔ جب آپ کی یہ نیت ہوگی، تو پھر ان کے لیے اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا عمل ہے، جس کی برکتیں دنیا اور آخرت دونوں میں ہیں۔
اس موقع پر انوار المصطفیٰ ہمدی نے نظم اور نثر کی صورت میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے لیے لکھے گئے خصوصی انقلابی کلام بھی پیش کیے جسے تمام حاضرین نے بے حد پسند کیا۔ ان کی انقلابی شاعری سے خوبصورت سماں بندھ گیا۔ صاحبزادہ حسن محی الدین قادری اور صاحبزادہ حسین محی الدین قادری نے بھی ان کی شاعری کو بہت پسند کیا اور انہیں داد دی
صاحبزادہ حسن محی الدین قادری نے کہا کہ دنیا میں ہر شے کو نور مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بدولت اور مرہون منت ہے۔ اگر اللہ نے نور مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ظہور نہ کرنا ہوتا تو پھر یہ کائنات ہست وبود نہ ہوتی۔ نہ کن فیکون ہوتا، نہ انسان ہوتا اور نہ ہی دیگر مخلوقات ہوتیں۔ اللہ تعالیٰ نے نور مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پرتاؤ کی بدولت ہی وحدت کو اجتماعیت میں ڈھالا۔
ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ انسان خسارے میں ہے، اس میں کسی ایک خسارہ کا ذکر نہیں کیا، بلکہ انسان کے تمام خساروں کا ذکر ہے۔ اس میں حکومت و اقتدار سے لے کر انسان کے ذاتی اموال و حیات تک کا خسارہ ہے۔ اور جب انسان کی ہر شے کا خسارہ ہو تو اس کو فناء کہتے ہیں۔
شیخ الاسلام نے نیت کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک عمل میں بہت سے نیتوں کو شامل کیا جاسکتا ہے، گویا ایک عمل کی شکل میں کثیر اعمال صالحہ کا ثواب جمع ہوجاتا ہے۔ جو ایک گنا سے لے کر سات سو گنا تک ہوجاتا ہے۔ نیت جتنی صاف اور خالص ہوتی جائے، اس میں سے دنیا کا لالچ، حسد، بغض اور طمع نکل جائے، لوجہ اللہ ہو جائے تو پھر اس نیت کا اجروثواب بغیر حساب اور بغیر شمار کے آگے بڑھ جاتا ہے۔
ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے کہا کہ وحدت کا فلسفہ انسان کی اصل سے متعلق ہے۔ جس طرح انسان کی ابتداء عارضی اور ناقص تھی، اسی طرح انسان کی انتہاء بھی ناقص ہے۔ انہوں نے کہا کہ کائنات کی اِبتداء بھی وحدت سے اور کائنات عروج پر جائے گی تو وحدت پر منتج ہوگی۔ تصور تخلیق کے عناصر اربعہ میں سے پہلا عنصر یہ ہے کہ کائنات کی تخلیق کا آغاز ابتداء ایک تخلیقی وحدت Primary Single Mass سے ہوا۔
ڈاکٹر حسین محی الدین القادری نے ہزاروں معتکفین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ حکمت و ولایت کے شہنشاہ ہیں اور ان کے قدموں کی دھول کے صدقے حکمت و بصیرت کی خیرات بٹتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حکمت کے شہر اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اسکا دروازہ ہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اللہ سے محبت کرنا ہے۔
4M
فیس بک
2M
ٹوٹر
© 1994 - 2026 Minhaj-ul-Quran International.