غزوہ بدر حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن معرکہ تھا: شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری
اطاعت رسول ﷺ اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہی کامیابی کی ضمانت ہے
غزوہ بدر کے بعدریاست مدینہ کو داخلی و خارجی استحکام حاصل ہوا: بانی و سرپرست اعلیٰ منہاج القرآن انٹرنیشنل

لاہور (7 مارچ 2026) بانی و سرپرست اعلیٰ تحریک منہاج القرآن شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے 17 رمضان المبارک معرکہ غزوہ بدر کے حوالے سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ غزوہ بدر اسلامی تاریخ کا ایک عظیم اور فیصلہ کن معرکہ تھا جس نے حق اور باطل کے درمیان واضح فرق قائم کیا۔ یہ وہ تاریخی دن تھا جب اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرت حاصل ہوئی اور باطل کی طاقتوں کو شکست فاش کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ بدر کے میدان میں غرور، تکبر اور سر کشی کو شکست ہوئی جبکہ ایمان، اخلاص اور اطاعت رسول ﷺ کی قوت غالب آئی، اس معرکے نے یہ حقیقت ہمیشہ کے لئے واضح کر دی کہ اصل کامیابی حضور نبی اکرم ﷺ کی کامل اطاعت، وفاداری اور اللہ تعالیٰ پر غیر متزلزل یقین میں پوشیدہ ہے۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا کہ جنگ بدر میں شریک صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اللہ کے رسول ﷺ کے فرمان کی تعمیل میں جان و مال کی ہر قربانی کے لیے تیار تھے۔ ان کی استقامت، اخلاص اور جذبۂ ایمان نے اس معرکے کو تاریخ اسلام کا سنگِ میل بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ بدر کا پیغام یہ ہے کہ جو قوم حق پر ثابت قدم رہے اور اللہ تعالیٰ پر کامل بھروسہ رکھے، اس کے لیے مدد و کامیابی کے دروازے کھل جاتے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ معرکۂ بدر کے بعد ریاستِ مدینہ کو اندرونی اور بیرونی سطح پر مضبوطی حاصل ہوئی۔ اس تاریخی کامیابی نے مسلمانوں کے حوصلے بلند کیے اور مخالف قوتوں پر انہیں نمایاں نفسیاتی برتری ملی۔ اس فتح کے نتیجے میں مسلم معاشرے کو معاشی، عسکری اور سیاسی میدانوں میں نئی قوت اور اعتماد میسر آیا، جس کے باعث وہ باوقار انداز میں ایک منظم اور مستحکم اسلامی معاشرے کی تشکیل کی طرف بڑھ سکے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا کہ بدر کا دن اہل ایمان کے لیے کامیابی، عزم اور اللہ کی نصرت کی یاد تازہ کرنے کا دن ہے۔


















تبصرہ