سیرت طیبہ انسانیت کےلئے عملی معجزہ ہے: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
نبی اکرم ﷺ کے اخلاق کریمانہ انسان کی شخصی، خاندانی اور معاشرتی زندگی سنوارتے ہیں
داعی کے لہجے میں حکمت، نرمی اور حسن اخلاق ضروری ہے: بانی و سر پرست اعلیٰ منہاج القرآن
آخری عشرے میں جاری’’ حضور نبی اکرم ﷺکے اخلاق کریمانہ کے موضوع پر فکر انگیز روحانی مجالس سے خطاب

لاہور (11مارچ 2026) بانی و سرپرست اعلیٰ تحریک منہاج القرآن شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ انسانیت کے لیے عملی معجزہ ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو انسان کو اعلیٰ اخلاق، بلند کردار اور خدمتِ خلق کا درس دیتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منہاج القرآن انٹرنیشنل سیکرٹریٹ ماڈل ٹاؤن میں رمضان المبارک کے آخری عشرے میں منعقدہ روحانی و تربیتی اجتماع کی پہلی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ان کے خطابات کا موضوع ’’حضور نبی اکرم ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ‘‘ ہے۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت پاک بذاتِ خود ایک عظیم معجزہ ہے۔ جس طرح قرآن مجید کے بارے میں چیلنج دیا گیا کہ اس جیسی ایک سورت پیش کر کے دکھائی جائے، اسی طرح حضور ﷺ کی سیرت پاک اہلِ مکہ کے سامنے بطور دلیل پیش کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ چودہ سو سے زائد برس گزرنے کے باوجود نہ قرآن کی مثل کوئی کلام پیش کیا جا سکا اور نہ ہی سیرتِ محمدی ﷺ جیسا کردار دنیا میں سامنے آ سکا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اعلانِ نبوت سے پہلے چالیس برس تک حضور ﷺ کی سیرت کو بطور دلیل دنیا کے سامنے پیش کیا تاکہ دعوتِ توحید کے پیچھے موجود کردار کی سچائی واضح ہو جائے۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا کہ دعوت کی اصل قوت الفاظ نہیں بلکہ کردار کی سچائی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا المیہ یہ ہے کہ ہم دین کی دعوت تو دیتے ہیں مگر اپنے اخلاق اور کردار سے اس کی عملی دلیل پیش نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ قرآن مجید نے دعوت کا اصول واضح کر دیا ہے کہ لوگوں کو ’’حکمت اور بہترین انداز‘‘ میں اللہ کی راہ کی طرف بلایا جائے۔ اگر داعی کے لہجے میں نفرت، سختی اور بدتہذیبی ہو تو ایسی دعوت دلوں میں اثر پیدا نہیں کرتی۔
انہوں نے کہا کہ حضرت سیدہ خدیجہ ؓ نے حضور ﷺ کی کامیابی کا یقین سات عظیم اخلاقی اوصاف کی بنیاد پر ظاہر کیا، جن میں صلہ رحمی، سچائی، کمزوروں کی مدد، محتاجوں کی کفالت، مہمان نوازی اور حق کے راستے میں مصیبت زدہ افراد کی معاونت شامل ہیں۔ شیخ الاسلام نے کہا کہ اگر سیرتِ طیبہ کو ایک کتاب تصور کیا جائے تو حضرت خدیجہ ؓکے یہ الفاظ اس کتاب کی’’سورۂ فاتحہ‘‘ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جس طرح قرآن مجید کا آغاز سورۃ الفاتحہ سے ہوتا ہے اسی طرح حضرت خدیجہؓ کے یہ سات جملے سیرتِ نبوی ﷺ کے بنیادی اخلاقی اصولوں کو واضح کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضور نبی اکرم ﷺ کے اخلاق کریمانہ انسان کی شخصی، خاندانی، سماجی اور معاشرتی زندگی کو سنوارنے کا کامل سرچشمہ ہیں۔ انسان سیرت مصطفیٰﷺ کو اپنی زندگی کا معیار بنا لے تو معاشرے میں محبت، اخوت اور اعلیٰ اخلاق کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ حضور نبی کریم ﷺ کے اخلاق کریمانہ صفات الہیٰ کا مظہر ہیں۔ حضور ﷺ کی صلہ رحمی دراصل اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہاکہ حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت طیبہ کے تمام احوال و واقعات اسی طرح محفوظ ہیں جیسے قرآن مجید محفوظ ہے، اللہ تعالیٰ قرآن کا بھی محافظ ہے اور حضور ﷺ کی سیرت کا بھی محافظ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سیرت مصطفیٰ ﷺ کو قیامت تک کی انسانیت کےلئے اسوہ اور معیار قرار دیا ہے۔
روحانی و تربیتی اجتماع کی پہلی نشست میں چیئرمین سپریم کونسل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، ڈاکٹر قیصر رفیق، خرم نواز گنڈاپور، بریگیڈیئر(ر) عمر حیات، ڈاکٹر رفیق نجم، ڈاکٹر شہزاد مجددی، جواد حامد، کرنل(ر) خالد جاوید، رانا وحید شہزاد، علامہ ملک شفقت عباس، ڈاکٹر علامہ میر آصف اکبر، ڈاکٹر غزالہ حسن قادری، محترمہ فضہ حسین قادری، علامہ اشفاق چشتی، شیخ فرحان عزیز، شہزاد رسول، اقبال حسین باجوہ سمیت تحریک منہاج القرآن کے مرکزی، صوبائی، ضلعی رہنما، علمائے کرام، مشائخ عظام اور خواتین و حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔


















تبصرہ