اہلِ بیت علیہم السلام کی محبت کسی فرقے کی حمایت نہیں بلکہ ایمان کی سچائی اور رسولِ اکرم ﷺ سے وفاداری کی علامت ہے: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
حقیقی مومن وہ ہے جس کے دل میں حضرت علی علیہ السلام کی محبت ہو، اور منافق وہ ہے جس کے دل میں آپؑ کے لیے بغض ہو: شیخ الاسلام کا خطاب
محبتِ مولا علی علیہ السلام اسلام کے اس روشن اور متفقہ عقیدے کا حصہ ہے جسے ائمۂ اہلِ سنت نے ہمیشہ ایمان کی علامت کے طور پر بیان کیا ہے۔ اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام سے محبت کسی مخصوص فرقے کی حمایت نہیں بلکہ درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے سچی وفاداری اور ایمان کی صداقت کا اظہار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ احادیثِ نبویہ میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام سے محبت ایمان کی نشانی ہے اور آپ سے بغض نفاق کی علامت ہے۔ پس حقیقی مومن وہی ہے جس کے دل میں مولا علی علیہ السلام اور اہلِ بیتِ رسول کی محبت جاگزیں ہو، کیونکہ یہ محبت دراصل اُس نورِ نبوت سے تعلق کا اظہار ہے جس نے امت کو ایمان، اخلاص اور وفاداری کا راستہ دکھایا۔
محبتِ مولا علیؑ ایمان کی علامت؛ اہلِ سنت کا عقیدہ:
مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: حضرت علی علیہ السلام روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: مجھے ربِّ کائنات کی عزت کی قسم، جس کے قبضۂ قدرت میں ہر مؤمن کی جان اور اس کا ہر سانس ہے، کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے فرمایا اور بطور عہد اعلان کیا:
’’اے علی! میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ قیامت تک میری امت میں کوئی شخص تم سے محبت نہیں کرے گا مگر وہ مومن ہوگا، اور کوئی تم سے بغض نہیں رکھے گا مگر وہ منافق ہوگا۔‘‘
گویا حقیقی مومن وہ ہے جس کے دل میں حضرت علی علیہ السلام کی محبت ہو، اور منافق وہ ہے جس کے دل میں آپ کے لیے بغض ہو۔ افسوس یہ ہے کہ آج بعض لوگ محبتِ علی علیہ السلام اور محبتِ اہلِ بیت کی بات کرتے ہوئے جھجک محسوس کرتے ہیں۔ وہ کُھل کر اس محبت کا اظہار کرنے سے گھبراتے ہیں، کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں لوگ انہیں کسی خاص مسلک کا حامی نہ سمجھ لیں۔
شیخ الاسلام نے کہا کہ: میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں کسی فرقے کی حمایت نہیں کر رہا۔ میں سنی العقیدہ ہوں، اہلِ سنت والجماعت سے تعلق رکھتا ہوں، فقہِ حنفی کا پیروکار ہوں اور امام اعظم ابو حنیفہؒ کا مقلّد ہوں۔ میں قادری ہوں اور سیدنا غوثِ اعظم حضرت عبدالقادر جیلانیؒ کا غلام ہوں۔ میری سُنّیت اور حنفیت میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے۔ میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام دونوں سے محبت رکھنے والا ہوں اور تمام ائمۂ دین کا ادب و احترام کرنے والا ہوں۔
میں یہ بات اس لیے جرأت کے ساتھ کہتا ہوں کہ صدیوں کے گرد و غبار اور بعض شدت پسند گروہوں کے شور و غوغا نے اہلِ سنت کے اصل عقائد پر پردہ ڈال دیا ہے۔ اس فضا نے کچھ لوگوں کو اس قدر خوف زدہ کر دیا ہے کہ وہ مولا علی علیہ السلام اور اہلِ بیت کا نام لیتے ہوئے بھی جھجکنے لگے ہیں، کہ کہیں انہیں شیعہ نہ کہا جائے۔
ہمیں اس معاملے میں جرأت امام شافعیؒ اور امام اعظم ابو حنیفہؒ سے سیکھنی چاہیے۔ امام شافعیؒ اہلِ بیت کی محبت کا کُھل کر درس دیتے تھے۔ جب بعض لوگوں نے انہیں طعنہ دیا کہ وہ رافضی ہو گئے ہیں تو امام شافعیؒ نے فرمایا:
’’اگر اہلِ بیتِ نبی ﷺ کی محبت انسان کو رافضی بنا دیتی ہے تو سُن لو! اس کائنات میں مجھ سے بڑا رافضی کوئی نہیں۔‘‘
اہلِ بیت کی محبت؛ صحاحِ ستہ کی روشنی میں اہلِ سنت کا عقیدہ:
شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا کہ: اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت کا درس خود اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کچھ باتیں ایک طویل عرصے سے مختلف وجوہات کی بنا پر بیان نہیں کی جا رہی تھیں۔ کبھی جھجک کی وجہ سے، کبھی خوف کی بنا پر اور کبھی مصلحت کے نام پر اُن پر پردہ ڈال دیا جاتا تھا۔ میں نے اس مصلحت کے مصنوعی پردے کو ہٹانے کی کوشش کی ہے اور امت تک وہ پیغام پہنچایا ہے جو تاجدارِ کائنات ﷺ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، ازواجِ مطہرات اور ائمۂ دین نے دیا ہے۔
میں کسی شیعہ کتاب کا حوالہ نہیں دے رہا۔ اہلِ بیت اطہار کی عظمت و فضیلت تو ہماری معتبر حدیث کی کتابوں میں موجود ہے۔ یہ فضائل صحاحِ ستہ کی کتب میں بیان ہوئے ہیں، اور یہی وہ مستند کتابیں ہیں جن پر ہمارے عقائد اور دینی مراجع کا دار و مدار ہے۔
اگر میں شیعہ کتب کا حوالہ دوں تو وہاں سے بھی سیدنا ابو بکر صدیقؓ، سیدنا عمر فاروقؓ اور سیدنا عثمان غنیؓ کی محبت اور فضیلت کے دلائل پیش کروں گا اور حبِّ صحابہ کا درس دوں گا۔
یہ سب روایات ہماری اپنی کتابوں میں ہیں، ہمارے اپنے ائمۂ حدیث نے انہیں بیان کیا ہے اور ہماری ہی اسانید کے ساتھ نقل کیا ہے۔ یہی ائمہ اپنی کتب میں واضح طور پر بیان کرتے ہیں کہ حضرت علیؑ اور اہلِ بیت سے محبت ایمان کی علامت ہے۔ اسی لیے انہوں نے اپنی کتابوں میں اہلِ بیت کی محبت کے عنوان سے باقاعدہ ابواب قائم کیے ہیں۔
مثلاً امام مسلمؒ نے اپنی مشہور کتاب ’’صحیح مسلم‘‘ میں کتاب فضائل الصحابہ قائم کی ہے اور اسی کے تحت حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل کے بارے میں مستقل باب ذکر کیا ہے۔
اسی باب کے تحت حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اپنے والد گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مولا علی علیہ السلام سے فرمایا:
أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
’’تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے حضرت ہارونؑ، حضرت موسیٰؑ کے لیے تھے، مگر اتنی بات ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ‘‘ (مسلم، الصحیح، جلد4، ص 1870، رقم: 2404)
دوسری حدیث امام مسلم امام ابو بکر بن ابی شیبہ کے طرق سے لائے کہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بیان کرتے ہیں کہ:
خَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تُخَلِّفُنِي فِي النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فَقَالَ أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى غَيْرَ أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
’’ رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ تبوک میں حضرت علیؑ کو مدینہ میں چھوڑ دیا، حضرت علیؑ نے کہا یا رسول اللہ! آپ مجھے عورتوں اور بچوں میں چھوڑ کر جا رہے ہیں آپ نے فرمایا: کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے موسیٰ کے لیے ہارون تھے! البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔‘‘ (مسلم، الصحیح، جلد4، ص 1870، رقم: 2405)
اس کے علاوہ اہلِ سنت کی معتبر کتابوں میں بڑی تعداد میں ایسی احادیث موجود ہیں جو اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ ائمۂ اہلِ سنت نے ہمیشہ اہلِ بیت کی محبت کا درس دیا ہے۔ ان روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اہلِ بیت سے محبت رکھنا ایمان کا لازمی تقاضا اور اس کی روشن علامت ہے۔ِ
بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)


















تبصرہ