جو اللہ تعالیٰ کے سچے محبّین ہوتے ہیں وہ دنیا اور اہلِ دنیا سے بے نیاز ہو جاتے ہیں: شیخ حماد مصطفی المدنی القادری

مورخہ: 12 مارچ 2026ء

اللہ تعالیٰ کی محبت میں ڈوبا ہوا دل دنیا کی ہر دولت کو معمولی سمجھتا ہے: خطاب

حرمِ کعبہ کی مقدس فضا میں ایک نوجوان کا حالِ دل دراصل محبتِ الٰہی کی اس سچی کیفیت کی جھلک پیش کرتا ہے جو دنیاوی خواہشات سے بالاتر ہوتی ہے۔ جب دل اللہ تعالیٰ کی محبت میں ڈوب جائے تو پھر دنیا کی دولت، آسائشیں اور ظاہری وسائل اپنی کشش کھو دیتے ہیں۔ اللہ کے سچے محبّین وہ ہوتے ہیں جو اپنے دل کو دنیا کی رغبتوں سے آزاد کر کے صرف اپنے رب کی قربت اور رضا کو مقصدِ حیات بنا لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے عاشقانِ حق کے نزدیک دنیا کی دولت اور اس کی چمک دمک کی کوئی حیثیت نہیں رہتی، کیونکہ اُن کے دل اللہ تعالیٰ کی محبت کے نور سے منوّر ہوتے ہیں اور وہ اسی محبت کو اپنی سب سے بڑی دولت سمجھتے ہیں۔

فقرِ حقیقی اور اللہ تعالیٰ کے سچے محبّین:

شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: امام رفاعیؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ انہوں نے حرمِ کعبہ میں ایک نوجوان کو دیکھا۔ اس کے چہرے اور حالت سے بھوک اور سختیوں کے آثار ظاہر ہو رہے تھے۔ اس کی فقر و فاقہ کی کیفیت دیکھ کر مجھے تعجب بھی ہوا اور دل میں یہ خیال آیا کہ اس کی کچھ مدد کرنی چاہیے۔

میں اُس کے قریب گیا۔ میری جیب میں ایک سو دینار تھے، میں نے چاہا کہ وہ دینار اُسے پیش کر دوں۔ میں نے اُس کی طرف بڑھ کر دینار دینے کی کوشش کی مگر:

فَلَمْ یَلْتَفِتْ إِلیَّ

’’وہ میری طرف متوجہ ہی نہ ہوا (اور نہ اُس نے میری طرف مڑ کر دیکھا۔)‘‘ (رفاعی، حالۃ أھل الحقیقۃ مع اللہ، ص 86)

عزیزانِ محترم! جو لوگ اللہ تعالیٰ کے سچے عاشق اور حقیقی مُحب ہوتے ہیں وہ دنیا اور اہلِ دنیا سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ انہیں دنیا کی چیزوں سے کوئی رغبت نہیں رہتی اور نہ ہی دنیا والوں سے کوئی تمنا ہوتی ہے۔ امام رفاعیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے دوبارہ کوشش کی اور اس نوجوان سے کہا: اے جوان! تمہیں یقیناً کسی نہ کسی چیز کی ضرورت ہوگی، کھانے پینے یا کپڑے خریدنے کے لیے یہ سو دینار قبول کر لو۔ اس مرتبہ وہ نوجوان میری طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا:

یَا شَیْخُ، ھذہ حالۃٌ لا أبیعُھا بالجنۃِ وما فیھا، فکیف أبیعھا بثمنٍ بَخْسٍ

"اے شیخ! میں اس حال کو جنت اور اس میں موجود تمام نعمتوں کے بدلے بھی فروخت نہیں کر سکتا، تو پھر ان چند دینار کے بدلے اسے کیسے بیچ دوں؟" (رفاعی، حالۃ أھل الحقیقۃ مع اللہ، ص 86)

امام رفاعی کہتے ہیں کہ: یہ سُن کر مجھے اندازہ ہوا کہ یہ شخص اللہ کی محبت میں اس قدر مستغرق ہے کہ دنیا کی کوئی دولت اس کے لیے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔

آخر میں شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے کہا کہ: ہم نے آج چند معمولی فائدوں اور دنیاوی مفاد کے بدلے اپنی آخرت کو بیچ ڈالا ہے۔ چند سکوں کی خاطر ہم نے اللہ تعالیٰ کی قربت اور اس کے دیدار کی عظیم نعمت سے بھی غفلت اختیار کر لی ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنے دیدار سے نوازتا ہے۔ مگر افسوس کہ ہم نے اس بے مثال نعمت کی قدر نہ کی اور دنیا کی عارضی چیزوں کے بدلے اسے کھو دیا۔

حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سچے عاشقوں اور مُحبین کے احوال اور کیفیات عام لوگوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ ان کی سوچ، ان کا زاویۂ نگاہ، ان کا اندازِ بیان اور گفتگو کا طریقہ سب جدا ہوتا ہے۔ وہ بات کو بھی ایک مختلف انداز سے سمجھتے ہیں اور زندگی کو بھی ایک الگ نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اُن کا طرزِ فکر اور طرزِ عمل بھی عام لوگوں سے مختلف ہوتا ہے، کیونکہ ان کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک خاص کیفیت اور گہری وابستگی پر قائم ہوتا ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی (سینئر ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top