قناعت ایک ایسا جوہرِ نایاب ہے جس کے مل جانے سے انسان حقیقی معنی میں مالدار بن جاتا ہے: پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

مورخہ: 13 مارچ 2026ء

Prof Dr Hussain Qadri Friday Sermon Jamay Shaykh ul Islam Lahore 2026

لاہور: صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے جامع شیخ الاسلام میں جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قناعت ایک ایسا جوہرِ نایاب ہے جس سے انسان کو حقیقی مالداری نصیب ہوتی ہے، جبکہ حرص اور لالچ انسان کو باطنی طور پر بے سکون اور محتاج بنا دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب انسان حرص و طمع کے چنگل میں آ جاتا ہے تو اس کی خواہشات کی کوئی حد باقی نہیں رہتی اور وہ ہمیشہ کسی نہ کسی کمی کے احساس میں مبتلا رہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اولیائے کرام اور اہلِ ایمان نے ہمیشہ اپنے دلوں کو حرص و طمع سے پاک رکھنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو دنیاوی خواہشات پر ترجیح دینے کی تعلیم دی ہے۔ اسی طرزِ فکر کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا میں عزت و وقار اور قلبی سکون سے نوازا۔ ان کا کہنا تھا کہ قناعت دراصل وہ نعمت ہے جس کے مل جانے سے انسان حقیقی معنی میں مالدار بن جاتا ہے، جبکہ حرص اور طمع اس کے برعکس انسان کو بے چین اور مضطرب بنا دیتے ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ موجودہ معاشرے میں ہر طرف خواہشات اور مقابلہ بازی کی فضا قائم ہے۔ کہیں مال و دولت کی حرص ہے، کہیں اقتدار و طاقت کی طلب، اور کہیں شہرت و ناموری کی خواہش انسان کو بے سکونی میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قناعت کا مطلب یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر راضی رہے اور ان پر شکر ادا کرے، جبکہ حرص انسان کو اس کیفیت میں مبتلا کر دیتی ہے کہ وہ اپنی موجودہ نعمتوں کو نظر انداز کر کے صرف ان چیزوں کے پیچھے دوڑتا رہے جو اس کے پاس نہیں ہوتیں۔

انہوں نے کہا کہ اللہ رب العزت نے ہر انسان کو مختلف نعمتوں سے نوازا ہے۔ کسی کو دولت، کسی کو علم، کسی کو طاقت اور کسی کو عزت و مقام عطا فرمایا ہے۔ اگر انسان اللہ کی اس تقسیم پر راضی ہو جائے تو یہی قناعت ہے، لیکن اگر وہ دوسروں کو دیکھ کر حسد اور بے چینی میں مبتلا ہو جائے تو یہی حرص اور لالچ ہے۔ ایک مومن اس یقین کے ساتھ زندگی گزارتا ہے کہ دنیا کی مشکلات عارضی ہیں جبکہ آخرت کی نعمتیں دائمی ہیں، اس لیے وہ صبر اور شکر کا راستہ اختیار کرتا ہے۔

انہوں نے قرآن مجید کی اس آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ جو شخص ایمان کے ساتھ نیک عمل کرے گا اسے پاکیزہ زندگی عطا کی جائے گی۔ اس حوالے سے انہوں نے امیر المؤمنین مولا علی علیہ السلام اور حضرت حسن بصری کے اقوال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس پاکیزہ زندگی سے مراد دراصل قناعت کی وہ کیفیت ہے جو انسان کے دل کو سکون اور اطمینان عطا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قناعت نہ صرف فرد کی زندگی کو سنوارتی ہے بلکہ معاشرے میں بھی امن، سکون اور توازن پیدا کرتی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کہا کہ موجودہ دور میں سوشل میڈیا نے تقابل کے رجحان کو مزید بڑھا دیا ہے۔ لوگ اپنی زندگی کی ظاہری کامیابیوں کو نمایاں کرتے ہیں جس کے نتیجے میں دوسروں میں احساسِ محرومی اور بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ جدید نفسیات اس رجحان کو “سوشل کمپیریزن” قرار دیتی ہے جو انسان کو ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کی طرف لے جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اپنے سے زیادہ مالدار لوگوں کو نہ دیکھو بلکہ ان لوگوں کو دیکھو جو تم سے کم وسائل رکھتے ہیں۔ اس طرزِ فکر سے انسان کے دل میں شکر گزاری پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنی زندگی پر مطمئن رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے واضح فرمایا کہ اصل مالداری مال کی کثرت نہیں بلکہ دل کی بے نیازی ہے۔ جب دل قناعت سے مالا مال ہو جائے تو انسان کم وسائل میں بھی باوقار اور مطمئن زندگی گزار سکتا ہے۔

انہوں نے صحابہ کرام کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ حضرت عثمانِ غنیؓ بے پناہ دولت کے مالک ہونے کے باوجود دنیا کی محبت سے آزاد تھے اور اپنے مال کو دین کی خدمت اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنا سعادت سمجھتے تھے۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ قناعت کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان محنت اور معاشی ترقی سے دستبردار ہو جائے، بلکہ اس کا اصل مفہوم زندگی میں توازن پیدا کرنا ہے۔ انسان کو رزق کے حصول کے لیے محنت بھی کرنی چاہیے، اپنے اہل و عیال کے حقوق بھی ادا کرنے چاہئیں اور دین کی خدمت کے لیے بھی وقت نکالنا چاہیے۔ جب زندگی میں یہ توازن پیدا ہو جائے تو انسان کو حقیقی سکون نصیب ہو جاتا ہے۔

دریں اثناء چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، مرکزی قائدین اور کارکنان سمیت اندرونِ ملک و بیرونِ ملک سے آئے ہوئے معتکفین و زائرین نے بھی جامع شیخ الاسلام میں نماز جمعۃ المبارک ادا کی۔ نماز کے بعد ملک و ملتِ اسلامیہ کی سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

Prof Dr Hussain Qadri Friday Sermon Jamay Shaykh ul Islam Lahore 2026

Prof Dr Hussain Qadri Friday Sermon Jamay Shaykh ul Islam Lahore 2026

Prof Dr Hussain Qadri Friday Sermon Jamay Shaykh ul Islam Lahore 2026

Prof Dr Hussain Qadri Friday Sermon Jamay Shaykh ul Islam Lahore 2026

Prof Dr Hussain Qadri Friday Sermon Jamay Shaykh ul Islam Lahore 2026

Prof Dr Hussain Qadri Friday Sermon Jamay Shaykh ul Islam Lahore 2026

Prof Dr Hussain Qadri Friday Sermon Jamay Shaykh ul Islam Lahore 2026

Prof Dr Hussain Qadri Friday Sermon Jamay Shaykh ul Islam Lahore 2026

Prof Dr Hussain Qadri Friday Sermon Jamay Shaykh ul Islam Lahore 2026

Prof Dr Hussain Qadri Friday Sermon Jamay Shaykh ul Islam Lahore 2026

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top