اللہ کی رحمت لامحدود ہے، مگر اُس کا فیض اُسی دل پر اُترتا ہے جو اپنی تنگی چھوڑ کر وسعت کو اختیار کر لے: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری

عبادت کا حقیقی اَدب یہ ہے کہ بندہ اپنی ذات کے حصار سے نکل کر پوری اُمت کو اپنی دعا میں شریک کرے: شیخ الاسلام کا خطاب
نماز میں ’’أنا‘‘کی نفی اور ’’نحن‘‘ کا درس دراصل خودی کی تہذیب اور امت کی تشکیل کا قرآنی اسلوب ہے: شیخ الاسلام کا خطاب
جو شخص ہر جگہ اپنی ذات کو نمایاں کرتا ہے، وہ درحقیقت عبودیت سے دور اور اپنی اَنا کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے: شیخ الاسلام کا خطاب

دعا میں ’’مَیں‘‘ کی بجائے ’’ہم‘‘ کا استعمال محض ایک نحوی اُسلوب نہیں بلکہ ایک گہرا روحانی اور اجتماعی پیغام ہے۔ قرآن ہمیں سکھاتا ہے کہ عبادت کے سب سے اعلیٰ مقام پر بھی بندہ اپنی ذات کو نمایاں نہ کرے بلکہ اُسے امت کی وسعت میں گم کر دے۔ نماز میں ’’أنا‘‘ کی نفی اور ’’نحن‘‘ کا درس دراصل خودی کی تہذیب اور امت کی تشکیل کا قرآنی طریق ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت لا محدود ہے، مگر اس کا فیض اُسی دل پر اُترتا ہے جو اپنی تنگی چھوڑ کر وسعتِ اخوت کو اختیار کرے۔ جو شخص ہر مقام پر اپنی ذات کو مقدّم رکھتا ہے، وہ درحقیقت عبودیت کی روح سے دور اور اپنی اَنا کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس کے برعکس عبادت کا حقیقی ادب یہ ہے کہ بندہ اپنی ذات کے حصار کو توڑ کر پوری امت کو اپنی دعا میں شریک کرے، کیونکہ بندگی کی معراج انفرادیت میں نہیں بلکہ اجتماعیت میں پوشیدہ ہے۔

إِيَّاكَ نَعْبُدُ: انفرادیت سے اجتماعیت تک کا سفر:

مجدّد المئۃ الحاضرۃ حضور شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیۃنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ: جب بندہ تنہا کھڑا ہو کر نماز ادا کرتا ہے تو بظاہر وہ اکیلا ہوتا ہے، مگر قرآن اسے یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ کہے: إِيَّاكَ أَعْبُدُ (میں تیری ہی عبادت کرتا ہوں) یا إِيَّاكَ أَسْتَعِينُ (میں تجھ ہی سے مدد چاہتا ہوں)۔ بلکہ اُسے یہ سکھایا گیا ہے کہ: إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔ یوں عبادت کے لمحے میں بھی ’’مَیں‘‘ کو مٹا کر ’’ہم‘‘ کو زندہ کیا گیا، تاکہ بندہ اپنی انفرادیت کو اجتماعیت میں گم کر دے اور اپنے وجود کو اُمت کے وجود میں شامل کر لے۔

یہ اسلوب دراصل روحانی تربیت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو سکھاتا ہے کہ دعا اور عبادت میں خود غرضی کی کوئی گنجائش نہیں۔ جب تو رحمت مانگے تو صرف اپنے لیے نہیں بلکہ پوری امت کے لیے مانگ؛ جب مدد طلب کرے تو صرف اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ تمام انسانیت کے لیے طلب کرے۔ اس طرح بندہ اپنی ذات کے محدود دائرے سے نکل کر ایک وسیع تر انسانی اور ایمانی شعور میں داخل ہو جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی ذات بھی وسیع ہے اور اس کی رحمت بھی لامحدود۔ ’’مَیں‘‘ ایک تنگ دائرہ ہے، اس میں انانیت بھی ہے اور محدودیت بھی؛ جبکہ ’’ہم‘‘ وسعت، اخوت اور اجتماعیت کی علامت ہے۔ بندہ جتنا اپنے دل کو وسیع کرے گا، اتنا ہی وہ رحمتِ الٰہی کی وسعت کا مستحق بنے گا۔ گویا عبادت کا یہ اسلوب ہمیں سکھاتا ہے کہ وسعتِ قلب ہی نزولِ رحمت کا اصل وسیلہ ہے۔

اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ: ہدایت کی اجتماعی دعا:

شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے مزید کہا کہ: نماز میں یہی سبق دیا گیا کہ اے لوگو! خود غرضی سے باہر نکلو۔ عبادت سے بڑھ کر کوئی عمل نہیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہونے سے بڑی کوئی سعادت نہیں۔ مگر غور کیجیے کہ اس عظیم ترین حالت میں بھی بندے کو ’’مَیں‘‘ کہنے کی اجازت نہیں دی گئی، بلکہ اسے ’’ہم‘‘ کہنا سکھایا گیا۔ جب سب سے اعلیٰ مقام پر بھی بندہ اپنی ذات کو جمع میں شامل کر دیتا ہے تو پھر عام زندگی کے معاملات میں ’’مَیں، مَیں‘‘ کرنے والا شخص درحقیقت اپنی ہی ’’اَنا‘‘ کا اسیر بن جاتا ہے۔

جو شخص ہر جگہ ’’مَیں‘‘ کو نمایاں کرتا ہے، وہ آہستہ آہستہ اپنی اَنا کا پجاری بن جاتا ہے۔ یہ ’’مَیں‘‘ ایک بت کی صورت اختیار کر لیتا ہے، جو اسے عبادت کی روح سے بھی دور کر دیتا ہے، عبودیت کی حقیقت سے بھی محروم کر دیتا ہے اور اللہ کی وسیع رحمتوں سے بھی فاصلے پر لے جاتا ہے۔ بندگی کا اصل حُسن تو اپنی ذات کو مٹا کر رب کی بارگاہ میں جھک جانا ہے، نہ کہ اپنی ذات کو نمایاں کرنا۔

پھر جب بندہ اور رب کے درمیان تعلق مضبوط ہو جاتا ہے اور مخاطبت کا پردہ اٹھ جاتا ہے تو اسے سکھایا جاتا ہے کہ اب مانگو کہ: اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ۔ یہاں بھی جمع کا صیغہ استعمال ہوا: اے اللہ! ہمیں سیدھی راہ دکھا۔ گویا ہدایت بھی صرف اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ سب کے لیے طلب کی جائے۔ اس دعا کا کمال یہ ہے کہ زندگی کے ہر لمحے، ہر قدم اور ہر موڑ پر اللہ تعالیٰ سے رہنمائی مانگی جائے، اور یہ رہنمائی اپنے ساتھ پوری امت اور پوری انسانیت کے لیے طلب کی جائے۔

ہدایتِ کاملہ: ظاہر و باطن کی اصلاح:

شیخ الاسلام نے کہا کہ: جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کو خاص ہدایت عطا فرماتا ہے تو وہ ہدایت صرف اس کے اعمال تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کی پوری شخصیت کو اپنے نور میں لے لیتی ہے۔ اس کا دماغ، اس کی سوچ، اس کے خیالات، اس کی خواہشات اور تمنائیں سب ہدایت کے رنگ میں ڈھل جاتے ہیں۔ ہدایت صرف ہاتھوں کے عمل کو نہیں سنوارتی بلکہ دل کی کیفیت، روح کی پاکیزگی اور کردار کی سچائی کو بھی درست کرتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ بندہ جب دعا کرتا ہے: اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ تو وہ دراصل زندگی کے ہر گوشے کی اصلاح مانگ رہا ہوتا ہے۔ وہ کہتا ہے: اے اللہ! ہمارے ذہن کو سیدھا کر دے، ہماری نگاہ کو پاکیزہ بنا دے، ہمارے کانوں کو حق سننے والا کر دے، ہمارے دلوں کو نور سے بھر دے، ہماری روح کو استقامت عطا کر دے۔ ہماری فکر، ہمارا زاویۂ نظر، ہمارا اندازِ عمل، ہمارا کردار ہر چیز کو سیدھا اور درست کر دے۔

انسان کی زندگی میں بے شمار ٹیڑھے راستے اور لغزش کے مواقع موجود ہوتے ہیں۔ نفس، خواہش، دنیا اور شیطان ہر قدم پر بھٹکانے کے اسباب پیدا کرتے ہیں۔ اسی لیے ’’الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ‘‘کے ساتھ دعا سکھائی گئی، تاکہ اللہ تعالیٰ ہماری راہ سے ہر کجی اور ہر انحراف کو دور کر دے، پھسلنے کے امکانات ختم کر دے اور بھٹکنے کے اندیشوں کو مٹا دے۔

اللہ سے ایسی ہدایت مانگنی چاہیے جو زندگی کے ہر موڑ پر ہمیں اسی کی طرف متوجہ رکھے، وہ جس سمت چلنے کا حکم دے، ہم ادھر بڑھیں؛ جس چیز سے روکے، ہم رک جائیں۔ یوں بندے کا ہر قدم، ہر فیصلہ اور ہر سانس اللہ کی رضا کے تابع ہو جائے، اور یہی ہدایت کی کامل صورت ہے۔

بلاگر: ڈاکٹر محمد اقبال چشتی (ریسرچ اسکالر)

تبصرہ

ویڈیو

Ijazat Chains of Authority
Top