سوشل میڈیا کے ذریعے ہم سے رابطہ میں رہنے کے لئے حسب ذیل لنکس ملاحظہ کر یں۔
راولپنڈی: ترجمان پاک فوج نے موجودہ سیاسی بحران میں آرمی چیف کو کردار ادا کرنے کے لئے حکومت کی جانب سے کی گئی درخواست کی تصدیق کردی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل عاصم باجوہ نے موجودہ سیاسی بحران پر آرمی چیف کے ثالثی سے متعلق کردار پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم نوازشریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے درمیان ملاقات میں حکومت کی جانب سے موجودہ سیاسی بحران کے حل میں پاک فوج کے سربراہ سے کردار ادا کرنے کی درخواست کی گئی تھی جس کےبعد آرمی چیف نے فریقین کےدرمیان ثالثی کا کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر طاہرالقادری نے حکومت سے مذاکرات مکمل طور ناکام ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج ’’یوم انقلاب ‘‘ ہے اب فیصلہ صرف عوام کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومتی ٹیم سے مذاکرات میں کہا تھا کہ دو شرائط فوری طور پر پوری کی جائیں جن میں وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب سمیت 21 افراد کے خلاف سانحہ ماڈل ٹاؤن کا مقدمہ درج کیا جائے اور وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف فوری استعفیٰ دیں مگر حکومتی ٹیم نے ہمیں وزیراعظم کی طرف سے شرائط نہ ماننے سے آگاہ کیا۔
حق و صداقت کا علم بلند رکھتے ہوئے دنیا نیوز سانحہ ماڈل ٹاؤن پر بنائے گئے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے مندرجات سب سے پہلے سامنے لایا۔ رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ کے بیان حلفی، پولیس کے بیان و حقائق اور شواہد میں واضح تضاد ہیں۔ تحقیقاتی کمیشن کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے بیان حلفی میں کہا کہ 17 جون کو 9 بجے سرکاری مصروفیات شروع ہوئیں، وہ گورنر ہاؤس لاہور میں چیف جسٹس کی تقریب حلف برداری میں گئے۔ ساڑھے نو بجے وزیراعلیٰ پنجاب نے ٹی وی پر سانحہ ماڈل ٹاؤن دیکھا۔
ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ٹریبونل کے فیصلے کے بعد بات حکومتوں کے خاتمے سے بڑھ کر شریف برادران کی پھانسی تک پہنچ چکی ہے، فیصلہ کن گھڑی میں 23 گھنٹے رہ گئے، اب یا تخت ہوگا یا تختہ۔ انکا کہنا تھا کہ شریف برادران نے اپنے بچاؤ کے لئے سانحہ ماڈل ٹاؤن کا یک طرفہ ٹریبونل تشکیل دیا تھا لیکن اس نے بھی شہباز شریف اور پنجاب حکومت کو ذمہ دار قرار دیا ہے جبکہ وزیراعلی پنجاب نے 17 روز تک رپورٹ دبائے رکھی۔
پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہرالقادری نے حکومت کو ایک بار پھر 48 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہےکہ ڈیڈ لائن گزرنے سے پہلے نظام لپیٹ کر اسمبلیاں ختم کردی جائیں ورنہ پھر دما دم مست قلندر ہوگا جبکہ شہادت کے لیے یا تو کفن میں پہنوں گا یا پھر نوازشریف کا اقتدار کفن پہنے گا۔ اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ انقلاب مارچ کے شرکا کا عزم و حوصلہ قابل قدر ہے،اس بات پر کسی کو اختلاف نہیں کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس مقام پر عوام کا سمندر کسی نے نہیں دیکھا اور یہ سمندر 12 دن تک صبر کا عظیم نمونہ پیش کرکے بیٹھا رہا، ملکی تاریخ میں انقلاب مارچ کے دھرنے جیسی مثال نہیں ملتی۔
ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا ہے کہ ہم نے مذاکرات کا درواز پہلے روز سے ہی کھلا رکھا جو ہمیشہ کھلا رہے گا لیکن اگر حق کے ساتھ دھوکہ ہوا اور مجھے شہید کیا گیا تو پارلیمنٹ ہاؤس شہدا کا قبرستان بن جائے گا۔ اسلام آباد میں ملی یکجہتی کونسل کے وفد سے ملاقات کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ اگر مظاہرین متزلزل نہ ہوئے تو انہیں منزل ضرور ملے گی اور ان کے مقاصد کو کوئی بھی ناکام نہیں کرسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ابتدا سے ہی مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا ہے اگر ہمیں تعطل کرنا ہوتا تو مذاکرات ہی نہ کرتے جبکہ یہی بات وفاقی وزیر خواجہ سعد کو بھی بتادی ہے کہ مذاکرات میں تعطل کی ذمہ دار حکومت ہے، ہم مذاکرات کے قائل ہیں اگر کوئی دشمن یا کارکنوں کا قاتل بھی ہمارے دروازے پر آئے گا تو اس کو سن کر اور اپنی سنا کر بھیجیں گے۔
انقلاب مارچ کے شرکا سے خطاب کے دوران ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ آئین صرف اس لئے نہیں ہوتا کہ لکھ کر چھوڑ دیا جائے۔ آئین کے تحت ملک کا اقتداراعلیٰ حقیقی طور پر اللہ تعالی کے پاس ہے اور عوام اس ملک کے وارث ہیں لیکن آئین میں عوام سے کئے گئے سارے وعدے پامال کئے گئے ہیں۔ ہماری جدوجہد 100 فی صد آئینی اورقانونی ہے۔ وہ ساتھ دینے والے وکلا کی کاوشوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔ آئین کے تحت عوام کو جو بنیادی حقوق تفویض کئے گئے ہیں لیکن اب تک انہیں ان کے حقوق نہیں مل سکے۔
پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے انقلاب مارچ میں اہم اعلان کرتے ہوئے کہا کہ آج رات نوازشریف حکومت نے داخلی اور خارجی دہشت گرد اسلام آباد کے ریڈ زون میں داخل کر دیئے ہیں۔ اور یہ کنٹینرز دہشت گردی کو روکنے کیلئے نہیں بلکہ انقلاب مارچ اور آزادی مارچ پر دہشت گردی کا حملہ کروانے کیلئے لگائے گئے ہیں۔
پاکستان عوامی تحریک نے سپریم کورٹ میں ممکنہ ماورائے آئین اقدام سے متعلق مقدمے میں اپنا جواب جمع کرایا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عدالتِ عظمیٰ کو سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے جمعرات کو ممکنہ ماورائے آئین اقدام سے متعلق درخواستوں کی سماعت کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متعلق ایک نئی بات آپ کو بتانا چاہتا ہوں جو ابھی تک بیان نہیں کیا، میڈیا اور پوری قوم کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں ایک نیا ظلم کا باب کھل رہا ہے، اور وہ یہ کہ 17 جون کو 14 قتل ہوئے 90 زخمی ہوئے، ان شہیدوں کی آّج کے دن تک FIR درج نہیں ہوئی، پھر 2 مہینے کے بعد 16 اگست کو ایڈیشنل سیشن جج لاہور کی عدالت نے فیصلہ سنایا، کہ نواز شریف اور شہباز شریف سمیت 21 افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔
ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا ہے کہ اگر ایوانوں سے کرپٹ لوگ نکال دیئے جائیں تو ملک دبئی اور سنگاپور بن سکتا ہے جب کہ حکمران جس جمہوریت کا رونا روتے ہیں اس کا مقصد صرف اپنا کاروبار بچانا ہے۔ ڈی چوک پر انقلاب مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ ملک میں بے شمار ذخائر موجود ہیں اگر کرپٹ لوگ نکل جائیں تو پورا پاکستان ترقی یافتہ بن سکتا ہے مگر بدقسمتی سے آج تک ایسا نہیں ہوا کیونکہ جس جمہوریت کا رونا رویا جاتا ہے وہ اقتدار کے ذریعے اپنے کاروبار کو بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں صرف ریکوڈک میں ایک لاکھ ارب روپے مالیت کا سونا موجود ہے۔
ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا ہےکہ نوازشریف سانحہ ماڈل ٹاؤن میں برابر کے ذمہ دار ہیں وہ فوری طور پر مستعفیٰ ہوں جبکہ قومی حکومت بننے تک اسلام آباد سے بھی نہیں جائیں گے۔ ڈی چوک پہنچنے پر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ اللہ نے آج ان مظلوموں،کمزوروں اور استحصالی نظام حکومت کے جبر میں پسے ہوئے لوگوں کی مدد کی جن کے پیاروں کو ماڈل ٹاؤن میں ریاستی دہشت گردی کے ذریعے شہید کیا گیا، شہبازشریف نے اس قتل عام کا حکم دیا جس میں نوازشریف برابر کے شریک ہیں۔
لاہور : لاہور ہائی کورٹ نے منہاج القرآن کو بھجوائے گئے 70 کروڑ روپے کے ٹیکس کی ادائیگی کا نوٹس معطل کر دیا ہے۔ ڈان نیوز ٹی وی کے نمائندے توقیر گھمن کے مطابق نو جولائی کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر) نے ڈاکٹر طاہرالقادری کے ادارے منہاج القرآن کو ستر کروڑ روپے ٹیکس کی ادائیگی کا ایک نوٹس بھیجا تھا۔
اگرچہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے احتجاجی مظاہروں میں خواتین بڑی تعداد میں شریک ہیں، تاہم ڈاکٹر طاہرالقادری کے 'انقلاب' کی حامی خواتین اپنے جوش اور انتظامی، سیکیورٹی اور نعروں کے حوالے سے بازی لے گئی ہیں۔
پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہرالقادری نے اعلان کیا ہے کہ انقلاب مارچ صرف اسلام آباد میں نہیں بلکہ پورے ملک میں شروع ہوگا، رات بارہ بجے حکمرانوں کے 12 بجا دیں گے اور اگلے لائحہ عمل کا اعلان رات 12 بجے کے بعد کیا جائے گا۔ اسلام آباد کے سہروردی روڈ پر انقلاب مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ رات بارہ بجے کا وقت قریب آرہا ہے اور ڈیڈ لائن کا وقت ختم ہونے میں کچھ ہی دیر باقی ہے اس دوران وزیراعظم نواز شریف سے مذاکرات نہیں بلکہ سوالات کے جوابات چاہیئں۔
4M
فیس بک
2M
ٹوٹر
© 1994 - 2026 Minhaj-ul-Quran International.